لاہور:وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور اس کے برادر ممالک نے امریکہ ، ایران کے درمیان معاہدہ کروایا ،امید ہے جلد کوئی حوصلہ افزاہ بریک تھرو ہوگااورامریکہ اور ایران کی قیادت معاہدے پر واپس آئے گی، ہمیں ڈالر کھپانے والی معیشت کے بجائے کمانے والی معیشت بننا ہے ورنہ آئی ایم ایف کے چنگل سے نہیں نکل سکیں گے، ملکی ترقی کا انحصار پائیدار توانائی ،جدت و صنعتی توسیع پر ہے، درآمدی انحصار سے نکل کر برآمدات پر مبنی معیشت تشکیل دینا ہوگی،ای ویز کا انقلاب برپا ہو چکا ،الیکٹرک وہیکلز کا فروغ ایندھن کی درآمدی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جدید ٹیکنالوجی ،الیکٹرک وہیکلز اور گرین انرجی کی جانب تیزی سے بڑھنا ہو گا،نجی شعبہ پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،ہمیں ڈالر زکمانے والی معیشت کی طرف آنا ہے،بھارت معرکہ حق میں شکست کے بعد غیر روایتی جنگ کر رہا ہے،ہمیں فتنہ الہندوستان کی جانب سے شروع کی گئی دہشتگردی کی لہر کا سامنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ایکسپو سنٹر میں جدید الیکٹرک وہیکلز ،توانائی پاکستان نمائش کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی خود مختاری اور پائیدار ترقی کا انحصار برآمدات میں خاطر خواہ اضافے پر ہے، ملک کو تیزی سے درآمدات پر مبنی معیشت سے برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اپنے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ای وی کو متعارف کرائیں اور ٹو ویلرز، تھری ویلرز اور فور ویلرز کو مرحلہ وار برقی توانائی پر منتقل کیا جائے،اس حوالے سے حکومت نے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے ، حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے فروغ کے لیے 80 ہزار روپے تک سبسڈی سمیت مختلف مراعات دی ہیں جبکہ حالیہ بجٹ میں ای وی گاڑیوں پر ڈیوٹیز میں بھی کمی کی گئی ہے تاکہ ان کو ملک میں زیادہ سے زیادہ متعارف کرایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پاور سیکٹر میں 6 سے 8 ہزار میگاواٹ سولر انرجی کے ذریعے توانائی کا ایک بفر پیدا کیا ہے، اب ضرورت ہے کہ درآمدی تیل پر انحصار کم کرکے ملکی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کیا جائے، تمام انڈسٹری سے بھی کہا ہے اور حکومت کی بھی اڑان پاکستان کے تحت واضع ترجیح ہے ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ہماری برآمداتی صلاحیت پر انحصار کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو کھپت پر مبنی معیشت کے بجائے ڈالر کمانے والی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو 2035ءتک 100ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات کا ہدف حاصل کرنا ہے۔ ملک کی معاشی خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اپنی برآمدات کو مطلوبہ رفتار سے بڑھا سکتے ہیں یا نہیں۔ ہر کاروباری شخص کو برآمد کنندہ بننے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور نجی شعبے کو برآمدات میں اضافے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جائے۔ پاکستان کے ای وی سیکٹر میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم موجودہ برآمدات کے حجم میں کم از کم دس گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے ٹیکس اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ ٹیکسوں کی اسیسمنٹ میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ٹیکس نظام کو مزید شفاف بنایا جا سکے اور بڑی حد تک ان شکایات کو دور کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریبا ساڑھے 9فیصد ہے جبکہ ترقی کرنے والے ہم پلہ ممالک میں یہ شرح 14سے 16فیصد تک ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس چوری کا خاتمہ اور ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ناگزیر ہے، اگر ٹیکس چوری جاری رہے گی اور ہم اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کریں گے تو حکومت کے پاس تو کوئی ذرائع نہیں ہے کہ وہ نئے نئے عوامی ترقیاتی منصوبے شروع کرے، جو لوگ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، وہ بدقسمتی سے ان افراد کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں جو ٹیکس چوری کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کیلئے برآمدی معیشت بننا ہوگا‘احسن اقبال
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل