کامیاب ثالثی، 2روز سے جاری کشیدگی تھم گئی ؛ امریکا ایران کے ایک دوسرے پر حملے بند

تہران / واشنگٹن۔۔۔۔۔۔وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والے شدید فضائی اور میزائل حملوں کے بعد دونوں جانب سے وقتی طور پر بندوقیں خاموش ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ثالث ممالک پاکستان، قطر اور عمان کی سفارتی کوششوں کے بعد مشرق وسطی میں کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے اور ایک بار پھر امریکا ایران جنگ مذاکرات کی بحالی کی امید پیدا ہوگئی۔سفارتی کوششوں سے واقف ذرائع نے بتایا کہ ثالث ممالک کی کوشش ہے کہ فریقین فوری طور پر مزید حملوں سے گریز کریں اور متنازع امور، خصوصا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، پابندیوں اور سکیورٹی معاملات پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔۔۔۔۔امریکا کے ایران پر اور ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام نے دعوی کیا کہ امریکا ایران کےساتھ مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان اور قطر بطور ثالث ایران اور امریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ دو روز قبل صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے اس کی پروا نہیں، وہ بات کرنا چاہیں تو کریں، لیکن میرے خیال میں وہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے بہترین مذاکرات کار بات چیت جاری رکھنا چاہیں تو ضرور کریں، لیکن مجھے اس سے کوئی امید نہیں۔۔۔۔۔ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم امریکا نے ایران پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ایرانی نیم سرکاری میڈیا کے مطابق صوبے بوشہر کے مختلف علاقوں اور قریبی شہر چوغادک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ مبینہ طور پر ایک امریکی اسرائیلی پروجیکٹائل بوشہر کے مضافات میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر سے ٹکرایا، بوشہر وہ صوبہ ہے جہاں تہران کی واحد سول جوہری تنصیب واقع ہے۔بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و سیکیورٹی امور احسان جہانیان نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صوبے کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جوہری تنصیب کے اطراف کا علاقہ، چوغادک شہر میں واقع ایک فوجی اڈہ اور صوبے کے جنوبی حصے میں ماہی گیری کی ایک بندرگاہ شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ شہر میں سنا جانے والا دھماکا فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے باعث ہوا، تاہم حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ایران میں کوئی فضائی حملہ یا فوجی کارروائی نہیں کی۔میڈیا رپوٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان 7جولائی سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے، تہران نے خلیجی خطے میں واقع متعدد امریکی فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا، جن میں قطر، بحرین اور کویت شامل ہیں، جس کے باعث جون کے وسط میں طے پانے والی جنگ بندی دبا کا شکار ہو گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مہر نیوز ایجنسی نے دھماکوں کی وجوہات، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔تازہ حملوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئیں جب ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امام علی رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں