سعودی عرب پر حوثی حملے خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں ،پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے سعود یہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں ، سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کےلئے کوششیں جاری رکھے گا،بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، بھارت کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے، افغانستان پاکستان کا دشمن نہیں، افغان حکومت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو سمجھ نہیں رہی،ہم افغان عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو دہشت گردی کے مسئلے سے الگ دیکھتے ہیں،قانونی ویزا والے افغان طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں،فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اسرائیلی بیانات مسترد کرتے ہیں۔ان خیالات کااظہار دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا ۔ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور فی الحال اسے مزید ممالک تک وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی خود مختاری اور سلامتی کے مکمل احترام کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ دفاعی تعاون بھی جاری ہے، سعودی عرب میں پاکستانی فورسز تربیت اور لاجسٹک مقاصد کےلئے موجود ہیں، دفاعی معاہدہ ایک چھتری کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے تحت مزید طریقہ کار طے ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کےلئے کچھ وقت درکار ہوگا، پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کے مزید پہلو جلد سامنے آئیں گے۔مکہ معاہدہ خطے کی سلامتی کو ڈیٹرنس کے ذریعے یقینی بنانے والا دفاعی اتحاد ہے، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ معاہدے کے تحت مشاورت جاری ہے،مکہ معاہدہ بعد میں یکساں سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہوگا۔ سجاد حیدر نے سعودی عرب پرحوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔پاکستان نے سعودی عرب کی سالمیت اور خودمختاری کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی حملے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے حوثی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیےکوششیں جاری رکھے گا۔سجاد حیدر خان نے بتایاکہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے، بھارتی دعوﺅں اور ہتھکنڈوں سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یاسین ملک کی صحت کے معاملے پر تشویش ہے، پاکستان یاسین ملک کی غیر قانونی قید کی مذمت کرتا ہے، ان کا بیانِ حلفی بھارتی عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے، پاکستان نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ یاسین ملک کی صحت کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔بھارت کے دہشت گردی میں مبینہ کردار کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، ان کے مطابق کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی بھارت کی مبینہ دہشتگرد سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔11 ستمبر کے واقعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نائن الیون نے دنیا اور پاکستان کے حوالے سے صورتحال کو تبدیل کردیا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کا حصہ رہا ہے اور خود بھی اس سے شدید متاثر ہوا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے بھارتی وزارت خارجہ کے آدھا سراج نارووال میں ہندو مندر سے متعلق جھوٹے اور سیاسی محرکات پر مبنی دعوے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی دعووں کے برعکس آدھا سراج نارووال میں مندر کی عمارت 21 جولائی کو موسلادھار بارشوں کے باعث متاثر ہوئی۔مندر کو نقصان پہنچنے کے بعد حکام نے صورتحال کا جائزہ لیا اور بحالی کے اقدامات شروع کیے،بھارت کی جانب سے حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرنے اور اقلیتوں کے منظم ظلم و ستم سے توجہ ہٹانے کی کوشش قابل مذمت ہے۔سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان 5 ستمبر کو سہارنپور میں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی سختی سے مذمت کرتا ہے، مذہبی آزادیوں کا احترام ہونا چاہئے اور کسی بھی مذہبی مقام کے خلاف کارروائی قابل مذمت ہے۔بھارت میں اسلامی ورثے کو نشانہ بنانے کی مہم 1992 میں چار سو سالہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے ۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے منظم ظلم و ستم، عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی و تباہی اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا نوٹس لے۔پاکستان نے مذہبی آزادیوں اور مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔افغان طلبہ کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان نے تمام افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، ایسے طلبہ جن کے پاس قانونی ویزا ہے وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم جو کسی یونیورسٹی میں داخل نہیں اور ان کے پاس ویزا بھی نہیں، ان کے معاملے میں ملکی قوانین کے مطابق کارروائی ہوگی۔افغانستان سے متعلق ترجمان نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا دشمن نہیں، تاہم موجودہ افغان حکومت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو سمجھ نہیں رہی، انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو دہشت گردی کے مسئلے سے الگ دیکھتا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان سمیت عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی بیانات اور تجاویز مسترد کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے کرغزستان کا دورہ کیا جس میں پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات پر اتفاق کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا، انہوں نے شاہی خاندان اور ناروے کے عوام سے پاکستان کی ہمدردی کا اظہار کیا۔ترجمان کے مطابق 7 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے کویت کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، دونوں رہنماﺅں نے بھی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ملاقات پر اتفاق کیا۔سجاد حیدر خان نے بتایا کہ 9 ستمبر کو نائب وزیراعظم نے مصری وزیر خارجہ سے دوبارہ رابطہ کیا اور قومی و علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان نے نیپال کے سیلاب متاثرین کے لیے 100 ٹن امدادی سامان بھیجا ہے، پاکستان 4 سے 11 اپریل 2027 تک سیف گیمز کی میزبانی بھی کرے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ گلوبل گورننس انیشی ایٹو چین کا ایک اہم منصوبہ ہے اور پاکستان اس کا حصہ ہے، پاکستان اس منصوبے کے تحت چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات کے ایک بڑے نیٹ ورک کو توڑا ہے، جس کا سرغنہ افغان شہری تھا، کراچی بندرگاہ پر سری لنکن حکام کے ساتھ رابطے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے 200 کلوگرام منشیات قبضے میں لی گئی، پاکستان نے منشیات کے خلاف کارروائی میں تعاون کرنے پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ایک سوال کے جواب میں سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا گیمز کے لیے دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے جا چکے ہیں، کسی کے شریک ہونے یا نہ ہونے کے باوجود گیمز ہوں گی، توقع ہے کہ تمام ممالک جنوبی ایشیا گیمز شریک ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں