کارونجھر پہاڑ کی کٹائی کسی صورت قبول نہیں، قاسم سراج سومرو
کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ننگر پارکر سے منتخب ایم پی اے قاسم سراج سومرو نے کارونجھر پہاڑ اور ننگر پارکر کی دیگر پہاڑیوں کی کٹائی کے منصوبے کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ننگر پارکر کا ایک ایک شخص کارونجھر کی کٹائی اور وہاں مائننگ (کان کنی) کرنے کے خلاف ہے، اس لیے ایسے کسی بھی عمل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ایم پی اے قاسم سراج سومرو نے کہا کہ گزشتہ روز ایک پی ایچ ڈی اسکالر ایم پی اے دوست کی جانب سے کارونجھر میں مائننگ کرنے کی حمایت کی گئی تھی، لیکن یہ فلاسفی سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقے میں تقریباً 20 ارب روپے کی لاگت سے چھوٹے ڈیم (Small Dams) بنوائے ہیں اور ان ڈیموں کے پانی کا واحد ذریعہ وہاں کی پہاڑیاں ہی ہیں۔ جب سے یہ ڈیم بنے ہیں، ننگر پارکر سے لوگوں کی نقل مکانی (ہجرت) بند ہو گئی ہے، واٹر ہارویسٹنگ ہوئی ہے، ماحولیاتی توازن (Ecological Order) بحال ہوا ہے اور جنگلی حیات (Wildlife) کا تحفظ ہوا ہے۔ اس وقت وہاں زیرِ زمین پانی کی سطح بہتر ہونے کی وجہ سے زراعت بھی ہو رہی ہے۔قاسم سراج سومرو کا کہنا تھا کہ مائننگ کرنے والی کمپنیاں کہہ رہی ہیں کہ وہاں صنعتیں لگیں گی، لیکن سوال یہ ہے کہ ان صنعتوں کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟ ہمارے پاس پہلے ہی بیراجوں میں پانی کی شدید قلت ہے۔ وہاں جو پانی دستیاب ہے وہ برسات کا ہے جس پر مقامی لوگ گزارا کرتے ہیں۔ اگر وہاں مائننگ کے نام پر ننگر پارکر کے ایک سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، تو یہ عمل کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ میں ننگر پارکر کی پوری سوسائٹی اور وہاں کے رہائشیوں کا نمائندہ ہوں، چاہے کوئی میرا ووٹر ہو یا نہ ہو، لیکن ننگر پارکر کے عوام اپنی دھرتی پر ایسی مائننگ کی اجازت کبھی نہیں دیں گے۔ قاسم سراج سومرو نے مزید کہا کہ چاہے وہ کارونجھر پہاڑ ہو، کارسر کی پہاڑی ہو، چوڑیو کا مندر ہو یا ننگر پارکر کی دیگر چھوٹی بڑی پہاڑیاں ہوں، یہ سب ہماری تاریخ، ثقافت اور پہچان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پہاڑ کاٹنے والا مائنڈ سیٹ ہمارے علاقے میں نہیں آنا چاہیے، کیونکہ ہمارے علاقے کی اپنی تاریخ اور ایک الگ حیثیت ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔