پاکستان کا کرغزستان کے ساتھ تجارت 2ارب ڈالر تک برھانے کے عزم کا اظہار

بشکیک۔۔۔۔۔پاکستان اورکرغزستان نے تعلیم، صحت ، تجارت،ماحولیاتی تبدیلی،سائنس و ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیئے اور دونوں ممالک نے تعلیم، صحت ، تجارت،ماحولیاتی تبدیلی،سائنس و ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تبدیلیوں اورثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے اور اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کےلئے عملی اور نتیجہ خیز اقدامات پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کرغزستان وسطی ایشیا میں پاکستان کا اہم شراکت دار ہے، دونوں ممالک کے درمیان راہداری تجارت معاہدہ خوش آئند پیشرفت ہے،معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کے فروغ کے نئے دور کا آغاز ہے، موجودہ دو طرفہ تجارت کے حجم کو آئندہ دو سال میں 16 ملین ڈالر سے 200ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں ،کاسا1000منصوبے کی بروقت تکمیل ضروری ہے،دہشت گردی ، انتہا پسندی اوردیگرعصری خطرات سے نمٹنے کےلئے تعاون بڑھائیں گے۔ بدھ کو دستاویزات کے تبادلوں کی تقریب یہاں کرغزستان کے صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پروزیر اعظم محمد شہباز شریف اورجمہوریہ کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف بھی موجود تھے۔جمہوریہ کرغز ستان کے صدر صادرژاپاروف اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط اور دستاویز کا تبادلہ کیاجن معاہدوں اورایم او یوزکا تبادلہ کیا گیا ان میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی)اور جمہوریہ کرغزستان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک انیشی ایٹو کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی دستاویز، پاکستان کی وزارت خارجہ اور کرغز ستان کی وزارت خارجہ کے درمیان 2026-27کےلئے تعاون کا پروگرام ، پاکستان کی حکومت اور کرغزستان کے کابینہ وزرا کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ بارے معاہدہ، کرغزستان اور پاکستان کی حکومت کے درمیان حوالگی کا معاہدہ،حکومت پاکستان اور کرغزستان کے درمیان سائنس اور تکنیکی تعاون کا معاہدہ ، پاکستان اور کرغزستان کے درمیان فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدے کا مسودہ ، کرغزستان کی وزارت داخلہ اور پاکستان کی وزارت داخلہ و انسداد منشیات کے درمیان منشیات ، نشہ آور اشیا اور پریکرسر کیمیکلز وغیرہ کی سمگلنگ کی روک تھام میں تعاون کےلئے مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کی وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے درمیان طبی تعلیم کےلئے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کی وزارت تعلیم اور پاکستان کی وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے درمیان تعلیم کے شعبہ میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کی وزارت قدرتی وسائل، ماحولیات اور تکنیکی نگرانی اور پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کے درمیان ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کےلئے مفاہمت کی یادداشت ،این ڈی یو پاکستان اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک انیشی ایٹوز کرغزستان کے درمیان اکیڈمک ریسرچ اور معاون سرگرمیوں کے شعبے میں مفاہمت کی یادداشت ، کرغزستان کے صدر کےزیر انتظام قومی ایجنسی برائے ورچوئل ایسٹس اور بلاک چین ٹیکنالوجیزاور پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت ، لاہور اور کرغزستان کے شہر اوش کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا معاہدہ، اوجے ایس سی کرغز پوسٹ اور پاکستان پوسٹ کے درمیان پوسٹل سروسز اور ای کامرس کے شعبے میں باہمی تعاون سے متعلق دوطرفہ معاہدہ اور کرغزستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تعاون کے معاہدے کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔پاکستان کی طرف سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار،وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان ،وفاقی وزیراطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی جبکہ کرغزستان کی طرف سے متعلقہ وزرا نے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پہاڑوں میں گھرے خوبصورت شہر بشکیک میں موجودگی پرخوشی ہے،پرخلوص اور فراخدلانہ میزبانی پر کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف اور کرغز عوام کے شکر گزار ہیں ، کرغزستان کے عوام کو پاکستان کے عوام کی طرف سے یوم آزادی اورنومیڈ گیمزکی میزبانی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں ، مجھے بھی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا،پاکستان بھی ا ن کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے۔وزیراعظم نے کرغزستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا 28-2027کےلئے غیرمستقل رکن منتخب ہونے اور شنگھائی تعاون تنظیم کی کامیاب چیئرمین شپ پر بھی مبارکباد دی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اوران کی ٹیم نے کرغزستان کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمستقل رکن کے انتخاب کےلئےانتھک کوششیں کیں،کرغزستان کے صدرکی قیادت میں ملک کی شاندار ترقی سے بہت متاثر ہوئے ہیں اورکرغزستان نے متاثر کن اقتصادی اہداف حاصل کئے ہیں اوراس ترقی کوعوامی خدمت کا دائرہ وسیع کرنے اورکمزور طبقات کےلئے سہولیات کی فراہمی کے ذریعے بہتر معیار زندگی میں تبدیل کرنے کےلئے بامقصد اقدامات اٹھائے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کرغزستان کےساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے جو قوموں کے درمیان امن اور تعاون کے حوالے سے ہمارا مشترکہ مقصد ہے، اس سلسلے میں آج ہماری انتہائی تعمیری اورمفید بات چیت ہوئی ہے جس میں تجارتی تعلقات کے فروغ پر توجہ مرکوز کی گئی ، جس کے بعد دو طرفہ تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ کےلئے مختلف ایم او یوز پر دستخط کئے گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی شعبے میں تعاون ہماری گفتگو کا محور تھا ،پاکستان کرغزستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے ،ہم نے اس امر پر اتفا ق کیا ہے کہ اقتصادی شراکت داری کو مزید عملی اورنتیجہ خیزمرحلے کی طرف لے جانا چاہئے، اس سلسلے میں عملی اقدامات کے جامع منصوبے پرعمل کیا جائے گا جس کا مقصد دو طرفہ تجارت کا حجم بتدریج200 ملین ڈالر تک بڑھانا ، تجارتی طریقہ کار کو بہتر بنانا ، مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینا ، صنعتی تعاون کو مضبوط بنانا اوربراہ راست کاروباری روابط کو وسعت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط دوطرفہ تعاون کے فروغ کے نئے دور کا آغاز ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت پاکستان اورکرغزستان کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم صرف 16 ملین ڈالر ہے جو ہماری دوستی ، بھائی چارے اورمضبوط تعلقات سے کسی طورمطابقت نہیں رکھتا،ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ا ٓئندہ دوسال میں دو طرفہ تجارت کا حجم 16 ملین ڈالر سے بڑھا کر200ملین ڈالر تک لےجائیں، یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے کاروباری اور مالیاتی اداروں کی کرغزستان کے کاروباری اور مالیاتی اداروں کے ذمہ داروں کے ساتھ وسیع تر رابطوں کا خیرمقدم کرتے ہیں تاکہ دو طرفہ اقتصادی تعاون کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھایا جاسکے۔ پاکستان اور کرغزستان کی حکومتوں اورنجی شعبے کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دیں گے ، رابطہ کاری جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اقتصادی تعلقات کےلئے ہمارے مشترکہ وژن کا محور ہے،ہم راہداری تجارت کے معاہدے کاخیرمقد م کرتے ہیں جس سے دوطرفہ تجارت کو فروغ ملے گا، سفری سہولیات بہتر ہونگی اور علاقائی سطح پر رابطے کےلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے4 ملکی راہداری معاہدے پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ٹرانسپورٹ،کسٹمز اورانتظامی طریقہ کار کوآسان بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے،توانائی کے شعبے میں تعاون ہماری شراکت داری کا اہم ستون ہے ۔ ہم کاسا1000منصوبے کی بروقت تکمیل کا اعادہ کرتے ہیں اوربجلی ، پن بجلی،متبادل توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق عملی تعاون کےلئے مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام خوش آئند ہے۔ دونوں ممالک تجارتی حجم بڑھانے کے لئے قوانین کو مزید سہل بنائیں گے ۔ وزیراعظم نے کرغزستان کی طرف سے کاسا1000منصوبے کی تکمیل میں پیشرفت پر کرغزستان کے صدر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت ، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کوفروغ ملا ہے، ہم دو قدیم شہروں اوش اور لاہور کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں،سلمان ٹو، لاہور قلعہ اور بادشاہی مسجد شاندار تاریخ اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان سکیورٹی اوردفاع کے شعبوں میں تعاون پربھی بات ہوئی ہے، ہم دہشت گردی ، انتہا پسندی اوردیگرعصری خطرات سے نمٹنےکےلئے تعاون بڑھانے کےلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ کرغزستان کےصدر کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ امور کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی اموربھی زیر بحث آئے اور ہم نے ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل پر تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا ہے اوراس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ موثر کثیرجہتی نظام عالمی امن اور سلامتی کےلئےاہمیت رکھتا ہے،پاکستان اور کرغزستان اقوام متحدہ اور دیگرعالمی فورمز پر ایک دوسرے کےساتھ مل کرکام کررہے ہیں ، پاکستان کرغزستان کووسطی ایشیا میں انتہائی اہم اورقابل قدر شراکت دار تصور کرتا ہے،ہمارے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ ملے گا، دونوں ممالک مل کر دہشت گرد ی اور انتہاپسندی کے خلاف کام کریں گے ۔ وزیر اعظم نے کرغزستان کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔اس موقع پرکرغزستان کے صدرصادرژاپاروف نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف اور ان کے وفد کو کرغزستان میں خوش آمدیدکہتے ہیں ۔ پاکستان کے میرے دورے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے بھی رواں سال جولائی میں کرغزستان کا دورہ کیا تھا۔ مختصر عرصہ میں دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطحی رابطےمضبوط باہمی اعتماد اور کرغزستان پاکستان تعلقا ت کو نئی سطح پر لے جانے کے مشترکہ عزم کا عکاس ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلی سطح کے رابطوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں ۔کرغز صدر نے کہا کہ معیشت کا شعبہ کرغزستان اور پاکستان کی شراکت داری کا بڑا ستون ہے ۔ ہم نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری بڑھانے کےلئے منظم اقدامات پر اتفاق کیا ہے، ہم ادویہ سازی، زراعت، توانائی، ہلکی مشینری ، سیاحت ، ڈیجیٹل معیشت ، ورچوئل اثاثوں اوردیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر عملدرآمدکےلئے تیار ہیں،ٹرانسپورٹ اورلاجسٹکس پر خصوصی گفتگو کی گئی ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں جنوبی ایشیا کی مارکیٹوں اور بین الاقوامی تجارت کےلئے کرغزستان کا قدرتی راستہ ہیں۔ اسی طرح کرغزستان وسطی ایشیا اوریورو ایشیا وژن کی مارکیٹوں تک رسائی کےلئے پاکستان کےلئے اہم گزر گاہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم توانائی کے شعبے میں تعاون جاری رکھیں گے۔ کاسا1000منصوبہ جنوبی ایشیا کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کےلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، عوام کی سطح پر رابطے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی مضبوط بنیاد ہیں، ہزاروں پاکستانی طلبا کرغزستان میں بالخصوص میڈیکل کی تعلیم حاصل کررہے ہیں جوآگے چل کر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنیں گے، سائنس، ثقافت، سیاحت ، نوجوانوں کے دوروں اورکھیلوں کا شعبہ بھی دو طرفہ تعلقات میں اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا کھیلوں کا ایک بڑا دستہ چھٹے عالمی نومیڈ گیمز میں حصہ لے رہا ہے ۔ آج کی بات چیت سے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے او ر دونوں ممالک کے درمیان دوستی کےلئے مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔قبل ازیں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا بھی تبادلہ کیا گیا جبکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادرژاپا روف نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط اور دستاویز کا تبادلہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں