اسلام آباد۔۔۔۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اقدامات آئین و قانون کے مطابق ہوئے ہیں اور ایڈوائزری کونسل کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے ، اسمبلی 6مہینے بعد بحال ہوگی جبکہ حکومت کی واپسی میں سال یا دو سال لگیں انتظار کرنا ہوگا۔منگل کوسینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ہوئے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں طرف کی پارٹیوں نے بھرپور محنت کی اور پوری طرح ہمت کرکے کسی جگہ پہنچنے کی کوشش کی، اس کے باوجود جس رات معاہدے پر دستخط ہونا تھا تو انہوں نے کہا کہ ہم بات کریں گے اور وزیراعلیٰ سے مشاورت کی، جنہوں نے انکار کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی مصالحت اس وقت ہوتی ہے جب چیزیں برابری کی بنیاد پر ہوں لیکن اس ملک اور خاص طور صوبے میں وہ چیزیں انتہائی غلط سمت میں گئیں، 13سال کے دوران این ایف سی مذاکرات میں ان لوگوں کا حصہ تھا جنہوں نے خیبرپختونخوا کو این ایف سی کا ایک فیصد دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے دیا جائے جو سرحد پار سے ہو رہی تھی۔انہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا کو اس مد میں 800ارب روپے جا چکے ہیں، موقع ملے تو پوچھیں ان سے کہاں خرچ ہوئے ہیں، کون سی وہاں سی ٹی ڈی کھڑی کی ہے اور وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کون سا پیسہ خرچ کیا ہے، اس کو بجٹ کا حصہ بنا کر ادھر ادھر اڑا دیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ اب تک وہاں فرانزک لیبارٹری کھڑی نہیں کی گئی، ہم سب پاکستانی ہیں لیکن سوچیں کہ پاکستان اور خاص کر صوبہ کہاں جاچکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات کے لیے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب جب تشریف لائے تو ہم نے 4چیزیں بتائیں اور ان کو کہا کہ کابینہ میں پیش کریں گے اور کابینہ میں جو ہوگا اس سے آپ کو آگاہ کریں گے لیکن کابینہ نے کہا کہ یہ کتنی دیر چلے گا۔انہوںنے کہاکہ کابینہ نے کہا وزیراعلیٰ سندھ اور پنجاب میں عوام کو موبلائز ہو رہے ہیں اور وسائل کس کے استعمال ہو رہے ہیں، آپ کے پاس پورا ریکارڈ ہے ثابت کریں کہ پی ٹی آئی نے اپنے وسائل استعمال کیے ہیں حالانکہ اس کے لیے صوبے کے وسائل اور انفرا اسٹکچر استعمال ہو رہے تھے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 13سال یہ بربادی ہوتے دیکھی ہے اور میرے خیال میں کابینہ نے درست فیصلہ کیا کہ سیاسی مصالحت کا وقت ختم ہوچکا ہے، 100دفعہ مصالحت کریں لیکن اس وقت دہشت گردی کا مسئلہ حل کریں، وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر حل کریں لیکن اس وزیراعلیٰ نے اپنے دور میں خود کو نااہل ثابت کیا کیونکہ گزشتہ ایک سال کے دوران پچھلے تین سال سے زیادہ دہشت گردی کے حملے ہوئے ہیں، ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں جنگ ہو رہی ہے، آبنائے ہرمز اور کہیں باب المندب میں لگی ہے اور ہمیں خارجہ سطح پر ہمارے مسائل ہے، توانائی کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے، حالات اس نہج پر پہنچے ہیں۔انہوںنے کہاکہ مولانا کو جواب دینے کے لیے کابینہ نے 4چیزیں بتائیں اس وزیراعلیٰ کو تبدیل کریں، دوسرے نمبر دہشت گردی کی مذمت کریں پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نے کتنی دفعہ دہشت گردی کی مذمت کی، جعفر ایکسپریس پر حملوں کی مذمت کی جبکہ ان کی حالیہ تقریریں سنیں تو وہ لوگوں کو پاکستان کے خلاف اکسا رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ معاملہ سیاسی مصالحت سے آگے نکل چکی ہے، ہمیں پہلے مل کر دہشت گردی کو شکست دینی ہے، اس صوبے میں ترقیاتی بجٹ 800ارب سے تجاوز کرچکا ہے اور این ایف سی سے ایک فیصد دیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ وفاق اور سارے صوبوں نے دیا اور وہ آج تک مل رہا ہے لیکن وہ کہاں گئے جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت دہشت گردی کے خلاف کچھ نہیں کرسکی۔انہوں نے کہا کہ مارچ کو دیکھیں آصف علی زرداری صاحب نے 12سے 14سال جیل میں گزارے، اللہ کرے بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے نکلیں لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں نہیں تو پاکستان جہاں مرضی جائے، جس طرح کا عمل ہے وہ قیادت کے شایان شان نہیں، کاش 9مئی نہ ہوا ہوتا، کوئی ملک جی ایچ کیو اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی اجازت نہیں دے سکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ اب جو کچھ بھی ہوا ہے وہ بالکل آئین وقانون کے مطابق ہوا ہے، ہر چیز کی پوری تسلی کریں گے، دو صوبے جل رہے ہیں اور لوگ تماشا دیکھ رہے ہیں، ہوش کے ناخن لینا چاہیے۔نائب وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے بتایا تھا یہ وزیراعلیٰ کو بدل لیں اور دہشت گردی کی مذمت کریں اور اعلان کریں کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف ہے اور ہم کھل کر مقابلہ کریں گے،
13سال یہ بربادی ہوتے دیکھی ،کابینہ نے درست فیصلہ کیا ،اسحاق ڈار
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل