گورنر کی سہیل آفریدی کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی تصدیق

پشاور ۔۔۔۔۔۔۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی تصدیق کردی۔پریس کانفرنس کے دوران فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سہیل آفریدی اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف بیان نہیں دیا، کوئی بڑا چھوٹا نہیں، جس نے کبھی کرپشن کی ہے اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ اور فوکس امن اور ترقی پر ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پچھلے دنوں جو سرکس تھا، اسے مسترد کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا کنٹینر لاوارث کھڑا ہے، انتظار میں ہوں کوئی آکر لے جائے ،ہم نے ایک نئے سفر کا آغاز کردیا ہے۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہے، سیکیورٹی فورسز کو جو وسائل درکار ہیں فراہم کریں گے۔انہوںنے کہاکہ پولیس کے جوانوں کو ہتھیاروں کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، وہ زمانے گئے جب وفاق اور صوبےمیں کوئی رابطہ نہیں تھا۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہماری پالیسیز اسلام آباد سے آئیں گی، قندھار اور جلال آباد سے نہیں، محسن نقوی نے باور کرایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی ضروریات پوری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا فوکس امن اور ترقی ہے، وفاق کے ساتھ اپنا مقدمہ ہم سب مل کر لڑیں گے، صدر اور وزیراعظم جلد تشریف لائیں گے، ہمارے مسائل حل کریں گے۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ وزیراعظم کے سامنے اپنا مقدمہ رکھیں گے، اب امن و امان پر کوئی سمجھوتا نہیں، کوئی قانون ہاتھ میں لے گا تو نتیجہ بھگتے گا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج ہمیں 10 اے پی سی گاڑیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہوگی، 13 سال کا گند صاف کرنا ہے، عوام کو حالات میں بہت جلد فرق نظر آئے گا، صوبے میں بدمعاشی اور توڑ پھوڑ نہیں کرنے دیں گے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ 13 سال اور تین مہینوں کا فرق آپ کو دکھائیں گے، ہم اپنے اقدامات اور کارکردگی سے ان کو جواب دیں گے، پی ٹی آئی کی حکومت سے اپوزیشن کہتی تھی کہ آئیں صوبے کا مقدمہ لڑیں۔انہوںنے کہاکہ کیا آپ وہ جمہوریت چاہتے ہیں جس میں شہریوں کا تحفظ نہ ہو، ایسی حکومت نہ ہمیں پسند تھی اور نہ ہے، ہم صوبے میں خوشحالی چاہتے ہیں، وہ جمہوریت جن کی پالیسی جلال آباد، کابل یا قندھار سے آتی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں