تعلیم پر سرمایہ کاری سندھ کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے، سید مراد علی شاہ

کراچی (این این آئی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تعلیم سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تعلیم پر سرمایہ کاری صوبے کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے، حکومت ایسے پروگراموں کیلئے مسلسل تعاون جاری رکھے گی جو تعلیمی مواقع میں اضافہ اور پورے صوبے میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں معاون ہوں۔ انہوں نے صوبے کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی توسیع اور سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کے مختلف پروگراموں میں بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے بدھ کو وزیراعلیٰ ہاو¿س میں سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کے 14ویں اجلاس کی صدارت کی، جس میں سندھ بھر میں معیاری تعلیم تک رسائی بڑھانے اور تعلیمی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے مالی، تعلیمی اور انتظامی اقدامات پر مشتمل جامع پیکیج کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن، سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر گنہوار علی لغاری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن ملک کے بڑے سرکاری و نجی شعبے کے تعلیمی منصوبوں میں شامل ہوچکی ہے۔ فاو¿نڈیشن اس وقت سندھ بھر میں 3 ہزار 230 اسکولوں اور تعلیمی مراکز کی معاونت کررہی ہے، جہاں 10 لاکھ 78 ہزار 252 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ فاو¿نڈیشن کے تحت فاو¿نڈیشن اسسٹڈ اسکولز، پیپلز اسکول پروگرام، اسکول اپنانے کا پروگرام، تیز رفتار ڈیجیٹل تعلیمی پروگرام اور دیگر غیر رسمی تعلیمی منصوبے جاری ہیں، جن کے ذریعے شہری اور دور دراز علاقوں کے بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔منیجنگ ڈائریکٹر سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن گنہوار علی لغاری نے بورڈ کو بتایا کہ 2021-22 کے بعد سے سبسڈی کی شرحوں میں نظرثانی نہیں کی گئی تھی۔ منظور شدہ اضافے سے فاو¿نڈیشن اسسٹڈ اسکولز میں زیر تعلیم 10 لاکھ سے زائد طلبہ جبکہ دی سٹیزنز فاو¿نڈیشن کے تعاون سے چلنے والے اداروں میں زیر تعلیم 18 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے۔اجلاس میں سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کے مختلف پروگراموں کے تحت شراکت دار اسکولوں کیلئے سبسڈی کی شرحوں میں نظرثانی پر بھی غور کیا گیا۔ یہ تجویز شراکت دار اداروں، بالخصوص دی سٹیزنز فاو¿نڈیشن کی درخواستوں کے بعد پیش کی گئی تھی، جن کی جانب سے بڑھتے ہوئے انتظامی اور تعلیمی اخراجات کی نشاندہی کی گئی تھی۔وزیراعلیٰ سندھ نے درخواست کا جائزہ لینے اور سفارشات پیش کرنے کیلئے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ نجم شاہ اور سیکریٹری خزانہ اصغر میمن شامل تھے۔ بورڈ کو بتایا گیا کہ نظرثانی شدہ سبسڈی کے نظام کے نتیجے میں سرکاری کمیونٹی اسکولز اور غیر رسمی تعلیم کے پروگراموں کیلئے سالانہ 7.9 ارب روپے کے اضافی اخراجات درکار ہوں گے۔ اجلاس نے صوبے بھر میں تعلیمی سلسلے اور معیار کو برقرار رکھنے کیلئے اضافی رقم کی منظوری دے دی۔بورڈ نے پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی رسائی بڑھانے کیلئے خصوصی گرانٹ پیکیج پر بھی غور کیا۔ مجوزہ اقدامات میں سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کے بند اسکولوں کو دوبارہ کھول کر فعال کرنا، ایسے علاقوں میں نئے اسکول قائم کرنا جہاں سرکاری تعلیمی سہولیات موجود نہیں اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے ذریعے بغیر عمارت یا مناسب پناہ گاہ کے چلنے والے اسکولوں کی معاونت شامل ہے۔اجلاس میں نئے اور بند اسکولوں کو دوبارہ فعال کرنے کیلئے گرانٹ، پیپلز اسکول ماڈل کے تحت پبلک اسکول ٹنڈو آدم کو فعال کرنے کیلئے اضافی فنڈز اور تقریباً 500 سرکاری کمیونٹی اسکولوں کو مرحلہ وار فعال کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ خاص طور پر ان اسکولوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی گئی جہاں طلبہ کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کی مالی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بورڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے فاو¿نڈیشن کے بجٹ سے متعلق تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ فاو¿نڈیشن کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دائرہ کار اور طلبہ کی تعداد میں اضافے کے باعث قابل اور تربیت یافتہ اساتذہ کی بھرتی، تعلیمی خدمات کے معیار میں بہتری اور مختلف تعلیمی پروگراموں کے تسلسل کیلئے مزید وسائل درکار ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر بچے، بالخصوص پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن نے سرکاری و نجی شراکت داری اور کمیونٹی کی بنیاد پر قائم اسکولوں کے ماڈلز کے ذریعے تعلیمی مواقع کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے سندھ ایجوکیشن فاو¿نڈیشن کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ طلبہ کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے، داخلوں میں اضافہ کرنے، اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے اور صوبے بھر میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر مسلسل توجہ دی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری سندھ کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ سندھ حکومت ایسے پروگراموں کیلئے مسلسل تعاون جاری رکھے گی جو تعلیمی مواقع میں اضافہ کرنے اور صوبے میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں