کراچی۔۔۔۔۔۔۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس نظام کو مزید سخت اور ڈیجیٹل بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر نئی ترامیم کا مسودہ جاری کردیا، جس میں ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے کاروبار کو منسلک کرنے پر ٹیکس کریڈٹ دینے، ٹیکس گوشواروں کی خودکار جانچ اور فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست کیلئے نئی شرائط تجویز کی گئی ہیں۔مجوزہ رول 33-یو کے تحت ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے کیلئے کاروباری ادارے کو متعلقہ ٹیکس سال کے دوران الیکٹرانک نظام خریدنا، نصب کرنا اور ایف بی آر کے نظام سے کامیابی کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔مجوزہ قواعد کے مطابق ہارڈویئر، سافٹ ویئر، تنصیب، تشکیل، رابطہ نظام کی تیاری، جانچ اور نفاذ کے بعض یک وقتی اخراجات ٹیکس کریڈٹ میں شامل ہوسکیں گے، تاہم انٹرنیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن، تنخواہوں، تربیت، معمول کے انتظامی اخراجات، مرمت، سالانہ دیکھ بھال اور خدمات کے اخراجات کو کریڈٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ڈسکاو¿نٹ، رعایت، رقم کی واپسی، گرانٹ اور سبسڈی کو حقیقی سرمایہ کاری کی لاگت سے منہا کیا جائے گا۔ ٹیکس کریڈٹ اسی سال کے ریٹرن میں حاصل کیا جاسکے گا جس سال ایف بی آر نظام سے انضمام مکمل ہوگا، جبکہ ایک ہی اخراجات پر دوبارہ ٹیکس کریڈٹ نہیں دیا جائے گا۔مجوزہ نظام کے تحت ٹیکس گوشواروں کی خودکار جانچ بھی کی جائے گی، جس میں دستیاب مختلف اعداد و شمار کو باہم ملا کر گوشواروں میں غلطیوں، تضادات اور قانونی مسائل کی نشاندہی کی جائے گی۔ایف بی آر کے مطابق آئی آر آئی ایس کے ذریعے ٹیکس دہندہ کو پیشگی اطلاع اور وارننگ دی جائے گی، جواب کیلئے کم از کم 7 دن کا وقت دیا جائے گا۔ جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں مزید کم از کم 7 دن کی یاددہانی کرائی جائے گی۔ قانونی کارروائی سے قبل ٹیکس دہندہ کو غلطی درست کرنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔مجوزہ ترامیم میں تاخیر سے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کیلئے بھی سہولت تجویز کی گئی ہے۔ ایسے افراد انڈرٹیکنگ اور آئی آر آئی ایس کے ذریعے فارم اے ٹی ایل-یو جمع کراکے سرچارج سے استثنیٰ حاصل کرسکیں گے، تاہم 6 ماہ تک جائیداد خریدنے یا اس میں ملکیتی حق یا مفاد حاصل کرنے کی صورت میں یہ سہولت واپس لی جاسکے گی۔شپنگ شعبے کیلئے بھی نیا آن لائن نظام متعارف کرانے کی تجویز ہے۔ اس نظام کے تحت غیر مقیم جہاز مالکان، چارٹررز اور مجاز شپنگ ایجنٹس اپنے ٹیکس ریٹرنز آئی آر آئی ایس کے ذریعے جمع کرائیں گے۔پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے جہاز سے متعلق معلومات خودکار طور پر ایف بی آر کے نظام میں منتقل ہوں گی اور ہر وی آئی آر کیلئے الیکٹرانک ریٹرن تیار کی جائے گی۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ مجوزہ ترامیم پر اعتراضات اور تجاویز مقررہ مدت کے اندر ایف بی آر کو جمع کرائی جاسکیں گی۔
ایف بی آر کا ٹیکس نظام مزید سخت اور ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل