اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ ٹیم کے درمیان ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت چوتھے اقتصادی جائزہ کیلئے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرنے اور توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ کے اہداف کے حصول کا مطالبہ کردیا جبکہ آٹو پالیسی کو طے کردہ بنچ مارکس کے مطابق ہم آہنگ کرنے کی تجویز دی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے مذاکرات میں آٹو پالیسی پر خصوصی سیشن ہوا جس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کو مجوزہ آٹو پالیسی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف وفد کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خطے کی صورتحال کی وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہوا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وفد کو پاکستان کی جانب سے گردشی قرضہ کم کرنے کیلئے مرتب کردہ پلان اور حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ گردشی قرضہ سے متعلق طے کردہ اہداف کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور زیرو ان فلو اہداف کے مطابق گردشی قرضہ 1600ارب روپے تک محدود رکھنا ہدف ہے۔آئی ایم ایف کو غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ رواں مالی سال پاکستان 15ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کرے گا جبکہ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم بنانے کیلیے سعودی عرب سے بر وقت تعاون حاصل کیا جولائی میں 2.2ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں ان میں 1.4ارب ڈالر چینی کمرشل قرض اور 80کروڑ ڈالر کے دیگر واجبات ادا کیے گئے جب کہ رواں مالی سال ساڑھے 21ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات میں سرکاری اداروں سے متعلق قوانین کو مرکزی ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔ حکومت کو قوانین میں ترامیم کیلئے نئی ڈیڈ لائن دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے ترامیم نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے واپڈا میں موثر گورننس ماڈل نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور گورننس ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔مذاکرات میں نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، نیب چیئرمین کی تقرری شفاف بنانے کے لیے احتساب آرڈیننس میں ترمیم بھی زیرغور ہے۔
آئی ایم ایف کا توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کرنے کا مطالبہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل