خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل عوام کے لئے ہیں، احتجاجوں کے لئے نہیں، عطاءاللہ تارڑ

پشاور۔۔۔۔۔فاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہاہے کہ خیبر پختون خوا میں ساڑھے بارہ سال سے ایک حکومت موجود ، یہاں ترقی کا فقدان ہے ، توجہ دینے کی ضرورت ہے ،ٹمبر، ٹوبیکو، مائنز اینڈ منرلز اور گولڈ مائننگ کے ٹھیکے کن لوگوں کو دیئے گئے؟، کیا صوبائی حکومت ٹیکس کا پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتی؟ ،خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل عوام کے لئے ہیں، احتجاجوں کے لئے نہیں،ترقی ان کا مینڈیٹ نہیں، ان کا مینڈیٹ صرف قیدی کو رہا کرنا ہے، بیرسٹر گوہر کے پاس نہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، نہ اس پر عمل درآمد کرنے کا اختیار ہے، نہیں معلوم فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے،پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جو کبھی پرامن نہیں رہ سکتی،ایک دھرنے سے تاجروں کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، سیاستدانوں کو اپنے رویوں میں نرمی لانا ہوگی، اختلاف عزت کے ساتھ کرنا ہوگا۔ منگل کو یہاں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کوہاٹ سے خیبر پختونخوا کے دورے کا آغاز کیا، خیبر پختونخوا غیور عوام کی دھرتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ کوہاٹ واقعہ کے زخمیوں اور شہداءکے لواحقین سے ملاقات ہوئی، ان کے حوصلے بلند دیکھے۔ وفاقی وزیراطلاعات نے کہاکہ شہید پولیس کانسٹیبل فہیم اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا، پشاور پریس کلب کی دنیا میں منفرد حیثیت ہے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ پشاور کے صحافیوں نے دہشت گردی کی جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے میڈیا ورکرز اور صحافیوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے،شہید اور دوران سروس وفات پانے والے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ شہداءکے لواحقین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پشاور کلب کی قومی بیانیہ کے حوالے سے متوازن پالیسی ہے، ہیلتھ انشورنس کا بھی پشاور کے صحافیوں کے لئے اجراءضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور کی نذر آتش کی جانے والی عمارت وزیراعظم کی ہدایت پر مکمل طور پر فعال کر دی گئی ہے، ریڈیو پاکستان کے دروازے صحافیوں کے لئے کھلے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ پشاور کے صحافی ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیوز کے ذریعے پوڈ کاسٹ اور وی لاگ ریکارڈ کر سکتے ہیں، پوڈ کاسٹ اسٹوڈیوز سمیت دیگر اسٹوڈیوز یہاں کے صحافیوں کے لئے دستیاب ہونے چاہئیں۔ انہوںنے کہاکہ عبداللہ جان مرحوم نے ریڈیو پاکستان پشاور سے پاکستان بننے کا اعلان پشتو زبان میں کیا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ ریڈیو پاکستان کا معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ہے۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہاکہ صحافیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا میں تعمیر و ترقی پر توجہ کی ضرورت ہے، خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سال سے ایک حکومت موجود ہے لیکن یہاں ترقی کا فقدان ہے، اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف کا جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم صاحب سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، امیر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ کو موخر پر مشاورت کرنے کا کہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پورے پاکستان میں موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشوں کو رعایتی نرخوں پر پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، پورے پاکستان میں اربوں روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے پاس نہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، نہ اس پر عمل درآمد کرنے کا اختیار ہے، یہ نہیں معلوم کہ فیصلہ سازی کا اختیار کس کے پاس ہے،خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل عوام کے لئے ہیں، احتجاجوں کے لئے نہیں۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جو کبھی پرامن نہیں رہ سکتی۔ انہوںنے کہاکہ انسداد دہشت گردی کی مدت میں این ایف سی ایوارڈ میں ہر سال خیبر پختونخوا حکومت کو حصہ دیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ این ایف سی کے آغاز کے بعد سے اب تک 16 سال ہو چکے ہیں، کوئی بتا سکتا ہے کہ اربوں روپے کی رقم امن و امان کیلئے کہاں خرچ کی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ ٹمبر، ٹوبیکو، مائنز اینڈ منرلز اور گولڈ مائننگ کے ٹھیکے کن لوگوں کو دیئے گئے؟، کیا صوبائی حکومت ٹیکس کا پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتی؟ ۔ انہوںنے کہاکہ مسئلہ وسائل کا نہیں نیت کا ہے، یہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو اپ گریڈ کر سکتے ہیں۔وزیر اطلاعات ونشریات نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں ہسپتالوں میں سہولیات نہیں ہیں، جس دن ان کی نیت ٹھیک ہوگی، کام ہو جائیں گے۔ انہوںنےن کہاکہ ترقی ان کا مینڈیٹ نہیں، ان کا مینڈیٹ صرف قیدی کو رہا کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ان کے پاس اپنی شاہ خرچیوں کے لئے فنڈز ہیں لیکن یہاں امن و امان، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ شہریوں کی آمدورفت میں کوئی خلل نہیں ڈالا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ ایک دھرنے سے تاجروں کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، سیاستدانوں کو اپنے رویوں میں نرمی لانا ہوگی، اختلاف عزت کے ساتھ کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ انہوں نے نوجوانوں کی غلط ذہن سازی کی، سیاست میں تعمیری تنقید ہونی چاہیے،ملک میں خواتین پر کیسز بنانے کی روایت ڈالی گئی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ ایک بیٹی کو جھوٹے کیس بنا کر اس کے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں