کراچی۔۔۔۔۔۔سندھ کے سینئر وزیر و صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت خصوصی بچوں کی تعلیم، بحالی اور بااختیاری کیلئے انقلابی اقدامات کر رہی ہے، صوبے کے 67 خصوصی تعلیمی اداروں میں تقریباً 20 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، جہاں مفت تعلیم کے ساتھ بحالی، فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی، ٹرانسپورٹ اور ماہانہ 3 ہزار روپے وظیفہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ایک بیان میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 37 اسپیشل ایجوکیشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز میں 49 جدید ڈیجیٹل کلاس رومز کا قیام اہم پیش رفت ہے، جن سے تقریباً 754 سماعت سے محروم طلبہ مستفید ہوں گے۔ ڈیجیٹل کلاس رومز میں اسمارٹ بورڈز، ای لرننگ ٹولز اور جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں 20 سیٹلائٹ اسکولز قائم کیے گئے ہیں، جن سے تقریباً 476 خصوصی بچوں کو تعلیمی مواقع میسر آئیں گے۔ ان اسکولز کا مقصد ایسے علاقوں تک تعلیم پہنچانا ہے جہاں خصوصی بچوں کی خصوصی تعلیمی مراکز تک رسائی محدود ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم کے معیار میں بہتری کیلئے سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ ہوگا۔ ڈیجیٹل کلاس رومز، سیٹلائٹ اسکولز اور سائن لینگویج ٹیچرز ٹریننگ پروگرام کو مزید وسعت دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
حکومت خصوصی بچوں کی تعلیم، بحالی اور بااختیاری کے انقلابی اقدامات کر رہی ہے، شرجیل انعام میمن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل