ایم کیو ایم نے کمیٹی میں بل کی حمایت کی، اسمبلی میں موقف سے مکر گئی، شرجیل میمن

کراچی۔۔۔۔۔سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر قائم خصوصی کمیٹی میں بل کی تمام شقوں کی حمایت کی، تاہم سندھ اسمبلی میں پیش رفت کے دوران اپنے مو¿قف سے مکر کر شور شرابہ کیا، جو اس جماعت کی پرانی روایت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ بل براہ راست بھی اسمبلی میں پیش کرسکتی تھی، تاہم تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں مختلف جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔سندھ اسمبلی کی کارروائی کے بعد وزیر قانون و داخلہ امور ضیا الحسن لنجار کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کمیٹی کے اجلاس میں بل کی تمام شقوں پر تفصیلی بحث میں حصہ لیا اور ان کی تجاویز کو بھی حکومت نے تسلیم کیا، لیکن اسمبلی میں آکر احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے طرز عمل کو منافقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ جمہوری عمل کے مطابق نہیں۔شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماضی میں خالد مقبول صدیقی کے بارے میں سخت الزامات عائد کیے تھے، لیکن آج وہ انہی کی قیادت میں کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مصطفی کمال کا سابقہ مو¿قف درست نہیں تھا تو انہیں اس پر معذرت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اگر بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہوجاتی ہے تو حکومت کسی کو بھی ایڈمنسٹریٹر مقرر کرسکتی ہے، تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ بلدیاتی نظام کا تسلسل برقرار رہے اور منتخب بلدیاتی اداروں کے نظام کو ممکنہ حد تک جاری رکھا جائے۔سینئر وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حکومت نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کو دینے کی بات کی ہے جبکہ پولیس کو بھی بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں کے سامنے جواب دہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں بلدیاتی ادارے زیادہ بااختیار ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کے معاملات سب کے سامنے ہیں، جبکہ سندھ حکومت الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے ماضی کے سیاسی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے ماضی میں بھی انتخابات سے ایک روز قبل بائیکاٹ کیا تھا۔وزیر قانون و داخلہ امور ضیا الحسن لنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل آج اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل تھا اور اس پر غور کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے ارکان کو شامل کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو بل کی شقوں پر اعتراض تھا تو اسے خصوصی کمیٹی میں اپنا اختلاف ریکارڈ کرانا چاہیے تھا۔ کمیٹی میں بل کی ہر شق پر تفصیلی بحث ہوئی، ارکان نے اپنی تجاویز پیش کیں اور حکومت نے ان تجاویز کو تسلیم کیا۔ اس کے باوجود اسمبلی میں بل کی منظوری کے مرحلے پر احتجاج کیا گیا۔ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے سے 120 روز قبل سندھ حکومت الیکشن کمیشن کو خط لکھے گی کہ بلدیاتی اداروں کی مدت پوری ہونے والی ہے، اس لیے انتخابات کی تیاری شروع کی جائے۔ ان کے مطابق الیکشن شیڈول جاری ہوتے ہی منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات معطل ہوجائیں گے اور متعلقہ اختیارات الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران کو منتقل ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ تھا کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے 90 روز قبل الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا جائے، تاہم حکومت نے اس مدت کو بڑھا کر 120 روز کرنے کی تجویز دی تاکہ الیکشن کمیشن کو انتخابات کی تیاری کیلئے مناسب وقت مل سکے۔وزیر قانون نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی کرائے جائیں تاکہ بلدیاتی نظام میں تعطل پیدا نہ ہو۔ حکومت بلدیاتی اداروں کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کیلئے قانون میں ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ضیا الحسن لنجار کے مطابق حکومت نے ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین کو کنوینر قرار دیا ہے جبکہ چیئرمین کو مزید اختیارات دیے جارہے ہیں اور پولیس بھی ان اختیارات کو تسلیم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کو بل پر اعتراض تھا تو وہ احتجاج یا بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرسکتی تھی، تاہم اسمبلی میں اختیار کیا گیا رویہ غیرجمہوری تھا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو بھی پہلے ہی تمام معاملات سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ مصالحتی کمیٹیوں کو بھی اختیارات دیے گئے ہیں اور حکومت کا مقصد کسی بدنیتی کے بجائے بلدیاتی اداروں کو مزید مو¿ثر اور بااختیار بنانا ہے۔ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ حکومت بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے، منتخب نمائندوں کے کردار کو مو¿ثر بنانے اور جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ ان کے مطابق بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے ساتھ انتخابات کے بروقت انعقاد کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں