حکمران تیار رہیں، قوم اپنا حساب لینے نکل پڑی ہے: ثمینہ سعید

اسلام آباد…….قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیوی ٹیکس کے خاتمے کے عنوان سے شروع ہونے والا احتجاج اب ایک بھرپور عوامی تحریک بن چکا ہے۔ دھرنے اور جلسوں میں خواتین، نوجوانوں اور عوام کی مسلسل شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قوم اب حکمرانوں کی عیاشیوں، نااہلی اور عوام دشمن پالیسیوں کا حساب لینے کے لیے میدان میں آچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف پیٹرولیم لیوی کا حساب نہیں لینا، ہمیں اس خاتون اور طالبہ کا بھی حساب لینا ہے جو پاکستان کے کسی گلی کوچے، محلے، بازار یا ادارے میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی۔ چاہے وہ ایک ماہ کی بچی ہو یا چالیس سال کی عورت، تحفظ ہر پاکستانی بیٹی کا بنیادی حق ہے۔ثمینہ سعید نے کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کہتی ہیں کہ خواتین ان کی ”ریڈ لائن“ ہیں، لیکن آج ہزاروں خواتین ایک ماہ سے سڑکوں پر موجود ہیں، تو کوئی ان سے یہ پوچھنے نہیں آیا کہ انہیں گھروں سے نکل کر احتجاج پر بیٹھنے پر کیوں مجبور ہونا پڑا؟ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی خواتین ریڈ لائن ہیں تو ان کے مسائل بھی حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ عوام کے درمیان آئیں، ان کی مشکلات سنیں اور انہیں ریلیف دیں۔انہوں نے کہا کہ آج جماعت اسلامی پاکستان کے کونے کونے میں احتجاج کر رہی ہے اور واضح پیغام دے رہی ہے کہ عوام پر مزید لیوی اور ٹیکسوں کا بوجھ ناقابل قبول ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جاری یہ تحریک کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ غریب، کسان، مزدور، نوجوان، طالب علم، ماں، بہن اور ہر عام پاکستانی کی جنگ ہے۔انہوں نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی ”گڈ گورننس“ کے دعووں کی حقیقت عوام کے سامنے آ رہی ہے۔ سکول بند ہو رہے ہیں، ہزاروں سکول آو¿ٹ سورس کیے جا رہے ہیں، ہسپتال اور بنیادی مراکز صحت عوام کو مطلوبہ سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہیں، کسان مشکلات کا شکار ہے، زراعت تباہی کے دہانے پر ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت تعلیم، صحت، روزگار اور زراعت نہیں دے سکتی، وہ عوام پر نئے ٹیکس عائد کرنے کا حق بھی نہیں رکھتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں