سکھر (پ ر)سندھ انفارمیشن کمیشن کے زیر اہتمام آرٹس کونسل سکھر میں سندھ ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت سرکاردی اداروں کے نامزد افسران کو قانون کےتحت درخواست گزاروں کو صحیح اور تمام تر معلومات کی فراہمی کے سلسلے میں آگاہی سیمینارکا انعقاد کیا گیا۔ آگاہی سیمینار سے کمیشن کے سینئر کمشنر محمد سلیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے تحت پہلا کمیشن 2017 میں قائم ہوا،کمیشن تین سال کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے جس میں چیف کمشنر ، دو کمشنرز کمشنر ہوتے۔ہیں اور اس کے علاوہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہوتا ہے جہاں عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے قانون کے تحت عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ محمد سلیم خان نے کہا کہ سندھ انفارمیشن کمیشن نے سیہون ڈولپمنٹ ، سندھ سروسزاسپتال اور دیگر اداروں کی انسپکشن کی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ انفارمیشن کمیشن کے کمشنرز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہمہ وقت ہر قسم کے رابطے اور رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ ٹو انفارمشین قانون پورے پاکستان میں کام کررہاہے،سندھ انفارمیشن کمیشن مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ادار ہ ہے جو سول کورٹ کے اختیارات بھی استعمال کرسکتا ہے، پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ متعلقہ محکمے کے مقرر فوکل پرسن کو درخواست دے کر معلومات حاصل کرسکتا ہے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نور محمد دایو نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام افسران سائلین کی درخواستوں کو رجسٹرڈ کریں اور 15 دن کے اندر جواب دینے کے پابند ہوں گے کسی عذر کی بنا پر مزید 10 روز کا وقت بھی لیا جاسکتا ہے ۔ نور محمد دایو نے مزید کہا کہ تمام محکموں کے نامزد افسران سندھ حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں سندھ ٹرانسپرنسی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ بہتر نظم و نسق ، شفافیت سمیت معلومات کے حوالے سے قانون کے مطابق کام کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ کمیشن نامزد آفیسر کی معلومات کی عدم فراہمی کے شکایت پر انکوائری کے بعد جرمانے، قید اور مزید دیگر کاروائی بھی کرسکتا ہےہر پاکستانی شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عوامی بھلائی کے منصوبوں، خرچ، استعمال کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر محکمے میں شفافیت نظر آنی چاہیے تمام افسران تمام تر معلومات کو بہتر طریقے سے ترتیب دیں، اگر نامزد آفیسر درخواست گزار کو مطلوبہ ریکارڈ کی عدم فراہمی فراہمی ، معلومات نہ دینے یا غلط بیانی کرنے یا کچھ بھی ضایع کرنے کا مرتکب ہوتا ہے تو اس ک خلاف سخت قانونی کاروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تمام نامزد افسران پر زور دیا کہ آنے والے تمام سائلین کو بہتر اخلاق، مثبت رویے، نرم مزاجی اور اطمینان بخش طریقے سے قائل کرنا اور معلومات فراہم کرنا قانون کا لازمی جزو ہے۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ قانون اور فراہم کی گئی معلومات کو بغور پڑھیں اور تمام قانونی تقاضوں کو مکمل کریں۔ سندھ انفارمیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالفقار شیخ نے عوام کو صحیح معلومات کی فراہمی کے حوالے سے اغراض و مقاصد کے بارے میں آگاہی دی۔آگاہی سیمینار میں مختلف محکموں بشمول محکمہ پولیس کے جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن کی فراہمی کے کام اور کارکردگی کو سراہا گیا۔
سندھ انفارمیشن کمیشن مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ادار ہ ہے ، محمد سلیم خان
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل