سندھ میں فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے قیام کا مطالبہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (CAP) نے سندھ حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں پر زور دیا ہے کہ صوبے میں فوڈ سیفٹی قوانین پر مو¿ثر اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کی جائے اور خوراک کے معیار کی نگرانی کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ، سائنسی ٹیسٹنگ اور ٹریس ایبلٹی پر مبنی جدید نظام متعارف کرایا جائے یہ مطالبہ کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام اور سندھ فوڈ اتھارٹی کے اشتراک سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کراچی میں منعقد ہونے والی 17ویں کنزیومرز فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی کانفرنس اینڈ ایوارڈز 2026 میں کیا گیاکانفرنس کا موضوع “اسمارٹ فوڈ سیفٹی: ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور مضبوط قوانین” تھا، جس میں اعلیٰ سرکاری حکام، ریگولیٹری اداروں کے افسران، سفارت کاروں، فوڈ انڈسٹری کے نمائندگان، ہاسپیٹیلٹی ماہرین، معروف شیفس اور صارفین کے حقوق کے نمائندوں نے شرکت کی سندھ کے وزیر صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو، چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان فرید احمد تارڑ اور سندھ کے وزیر خوراک مخدوم محبوب زمان کی نمائندگی کرتے ہوئے سیکریٹری فوڈ سندھ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر عبدالقیوم سومرو اور ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی شہزاد فضل عباسی نے بطور مہمانانِ اعزاز شرکت کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ محفوظ اور معیاری خوراک تک رسائی ہر شہری کا بنیادی صارف حق ہے، اس لیے خوراک کے معیار اور تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جاسکتی انہوں نے کہا کہ موجودہ روایتی انسپیکشن نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے اور محض بازاروں میں معائنہ کافی نہیں، بلکہ ایسا احتیاطی، سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام تشکیل دینا ہوگا جس کے ذریعے غیر معیاری، ملاوٹی اور مضر صحت اشیا مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی نشاندہی کی جاسکے کوکب اقبال نے سندھ فوڈ اتھارٹی پر زور دیا کہ صوبے میں اپنی جدید اور مکمل طور پر فعال فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرے تاکہ خوراک کے نمونوں کی بروقت، شفاف اور سائنسی بنیادوں پر جانچ ممکن ہوسکے انہوں نے کہا کہ خوراک میں ملاوٹ، آلودگی اور غیر معیاری اشیا کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، قابل اعتماد ڈیٹا، مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی اور مو¿ثر نفاذِ قانون ناگزیر ہوچکا ہے انہوں نے سندھ فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی اور اقدامات کو سراہتے ہوئے ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی شہزاد فضل عباسی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیا، تاہم کہا کہ جدید لیبارٹریز، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مزید مضبوط ریگولیٹری نظام کے ذریعے اتھارٹی کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے کنزیومرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خوراک کے تحفظ کے لیے متعلقہ سرکاری محکموں، ریگولیٹری اداروں، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، ڈسٹری بیوٹرز، ریٹیلرز اور صارفین کے درمیان مو¿ثر رابطہ اور تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ خوراک کی تیاری سے صارف کی میز تک ہر مرحلے پر معیار اور تحفظ برقرار رہے کانفرنس کے شرکاءنے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ روایتی معائنہ کاری اکیلے جدید دور کے فوڈ سیفٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں، اس مقصد کے لیے سائنسی ٹیسٹنگ، ڈیٹا پر مبنی فیصلے، ڈیجیٹل نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کو فوڈ سیفٹی نظام کا لازمی حصہ بنانا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں