کوئٹہ ۔۔۔۔۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی)بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کے مطابق پیر سے صوبے کے 13 اضلاع کی 62 ہائی رسک یونین کونسلز میں خصوصی انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ان مخصوص علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو جیسے عمر بھر کی معذوری کا باعث بننے والے موذی وائرس سے محفوظ بنانا ہے۔ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے بتایا کہ یہ خصوصی مہم ان علاقوں میں چلائی جا رہی ہے جہاں آبادی کی نقل و حرکت زیادہ ہے اور پولیو وائرس کی گردش (وائرس سرکولیشن) کا خطرہ مسلسل برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی جانب سے پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے اور ہر بچے کو اس مرض سے محفوظ بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 9 ہزار 557 بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے اور مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے 862 موبائل و فیلڈ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ 61 فکسڈ ویکسینیشن مراکز اور 72 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ دورانِ سفر بھی بچوں کو قطرے پلائے جا سکیں۔انعام الحق نے واضح کیا کہ پولیو وائرس اب بھی صوبے کے بعض علاقوں میں موجود ہے اور اس خطرناک بیماری سے بچوں کو معذوری سے بچانے کا واحد اور مثر حل صرف بروقت اور بار بار ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پولیو کے قطروں سے محروم رہ جانے والا ہر بچہ وائرس کے پھیلا کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ منہ کے ذریعے پلائی جانے والی پولیو ویکسین کی بار بار خوراکیں مکمل طور پر محفوظ اور بچوں میں مضبوط قوتِ مدافعت پیدا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔انہوں نے والدین، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں اور تمام مکاتبِ فکر سے اپیل کی کہ وہ ویکسین سے انکار نہ کریں اور فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے بچے کو پہلے بھی متعدد بار قطرے پلائے جا چکے ہوں، پھر بھی اس مہم میں قطرے لازمی پلوائیں۔ ای او سی کوآرڈینیٹر نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان اور پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
بلوچستان ، 13 اضلاع کی 62 ہائی رسک یونین کونسلز میں آج سے خصوصی انسداد پولیو مہم کا آغاز
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل