حب/کراچی (پ ر) سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ انوائرمنٹ پروٹیکشن (SHEP) کے صدر محمد سعید کی قیادت میں ایک وفد نے سوک سینٹر حب میں میئر حب میونسپل کارپوریشن گل حسن محمد حسنی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں نائب صدر میر حسن بروہی، ممبران کاشف الرحمٰن اور طاہر راجپوت بھی شامل تھے۔اس موقع پر حب کی تعمیر و ترقی، شہری مسائل، صنعتی سرگرمیوں، انفراسٹرکچر کی بہتری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میئر حب گل حسن محمد حسنی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت حب کو بلوچستان کا جدید، خوبصورت اور ماڈل شہر بنانے کے لئے سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی حب کی ترقی اور خوشحالی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حب کو جدید شہری سہولتوں سے آراستہ ایک مثالی شہر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حب میونسپل کارپوریشن ایک جامع ماسٹر پلان کے تحت شہر کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے تحت جدید تعلیمی اداروں، ماڈل اسپتالوں، جدید پارکس، کشادہ سڑکوں، پلوں، انڈر پاسز، نکاسی آب کے م¶ثر نظام، صاف پانی کی فراہمی، گرین بیلٹس، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی شہری سہولتوں کے منصوبوں پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔میئر گل حسن محمد حسنی نے کہا کہ حب بلوچستان کا سب سے اہم صنعتی شہر ہے جہاں روزانہ ہزاروں صنعتی گاڑیاں، ہیوی ٹرک اور کنٹینرز بندرگاہوں سے آمدورفت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے شہر کے انفراسٹرکچر اور ٹریفک نظام پر غیر معمولی دبا¶ پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لئے جامع ٹریفک مینجمنٹ پلان، متبادل روٹس، انڈر پاسز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کیا جارہا ہے تاکہ صنعتوں کی سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں اور شہریوں کو ٹریفک جام کی مشکلات سے بھی نجات مل سکے۔انہوں نے کہا کہ حب میونسپل کارپوریشن اپنے محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو بہتر شہری سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے، تاہم حب جیسے تیزی سے ترقی کرنے والے صنعتی شہر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز درکار ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت حب کی قومی معاشی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ترقیاتی پیکیج فراہم کریں گی تاکہ شہر کے انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکے۔میئر گل حسن محمد حسنی نے کہا کہ حب ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ بندرگاہوں سے آنے اور جانے والی تجارتی و صنعتی سرگرمیوں کا بڑا بوجھ حب برداشت کرتا ہے، اس لئے وفاقی حکومت کو بھی چاہیے کہ قومی تجارت اور صنعتی نقل و حمل کے اس اہم مرکز کی ترقی کے لئے خصوصی مالی معاونت فراہم کرے تاکہ سڑکوں، پلوں، انڈر پاسز اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنایا جاسکے۔اس موقع پر سوسائٹی فار ہیومن رائٹس اینڈ انوائرمنٹ پروٹیکشن کے صدر محمد سعید نے کہا کہ حب بلوچستان کی صنعتی ترقی کا مرکز ہے اور اس کی ترقی نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت، بلوچستان حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ حب کی بڑھتی ہوئی صنعتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ترقیاتی فنڈز، جدید انفراسٹرکچر اور شہری سہولتوں کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ شپ این جی او شہری ترقی، ماحولیات کے تحفظ، بنیادی انسانی حقوق اور پائیدار شہری منصوبہ بندی کے فروغ کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ ملاقات کے اختتام پر وفد نے میئر حب گل حسن محمد حسنی کی حب کو جدید اور ماڈل سٹی بنانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ سول سوسائٹی بھی شہر کی ترقی، ماحولیات کے تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے گی۔
حب کی ترقی کے لئے پیپلزپارٹی کی پوری قیادت ہمہ تن گوش ہے، گل حسن محمد حسنی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل