کراچی…..سول سوسائٹی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین سعید راجپوت نے بحیرہ عرب میں بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج اور صنعتی فضلے کے مسلسل اخراج پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کراچی کا ساحلی ماحولیاتی نظام ایک بڑے ماحولیاتی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی، حکومت سندھ، سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو ماحولیاتی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے فوری اور مو¿ثر اقدامات کریں۔سعید راجپوت نے کہا کہ مختلف ماحولیاتی جائزوں کے مطابق روزانہ تقریباً 470 ملین گیلن بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج، صنعتی گندا پانی اور دیگر خطرناک آلودہ مادے مناسب صفائی کے بغیر براہ راست بحیرہ عرب میں چھوڑے جا رہے ہیں۔ یہ تشویشناک صورتحال نہ صرف سمندری ماحول بلکہ انسانی صحت، ماہی گیری، ساحلی سیاحت اور ملکی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ کلفٹن میں میکڈونلڈ کے قریب واقع ایک بڑا سیوریج آ¶ٹ فال مسلسل بغیر ٹریٹمنٹ گندا پانی براہ راست سمندر میں چھوڑ رہا ہے، جس کے باعث کراچی کے اہم ترین تفریحی ساحل پر بدبو، آلودگی اور ماحولیاتی تباہی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ایک بین الاقوامی شہر کے لیے انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ صرف ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ لیاری ندی، ملیر ندی، نہر خیام، محمود آباد نالہ، کورنگی اور لانڈھی فش ہاربر، گزری کریک، کورنگی کریک، ریڑھی گوٹھ، ابراہیم حیدری، مائی کولاچی اور ماڑی پور سمیت متعدد مقامات سے بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج، صنعتی کیمیائی فضلہ، چمڑے اور ٹیکسٹائل صنعتوں کا فضلہ، جانوروں کا فضلہ اور دیگر زہریلے مادے مسلسل بحیرہ عرب میں شامل کیے جا رہے ہیں، جس سے کراچی کا نازک ساحلی ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔سعید راجپوت نے کہا کہ لیاری ندی شہر کے گھریلو اور صنعتی فضلے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہے جبکہ ملیر ندی کورنگی صنعتی علاقے کا کیمیائی فضلہ اور بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج سمندر تک پہنچا رہی ہے۔ اسی طرح نہر خیام اور محمود آباد نالہ کلفٹن، ڈیفنس اور ملحقہ علاقوں کا گندا پانی براہ راست ساحلی پانی میں شامل کر رہے ہیں۔ ریڑھی گوٹھ اور ابراہیم حیدری میں جانوروں کا فضلہ اور ٹیکسٹائل و چمڑے کی صنعتوں کا غیر صاف شدہ فضلہ بھی مسلسل سمندر میں ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ بے قابو سمندری آلودگی کے باعث مچھلی، جھینگے، کیکڑے، سمندری کچھوے، ڈولفن، مینگرووز، مرجانی مسکن اور بے شمار دیگر سمندری حیات شدید متاثر ہو رہی ہے۔ آلودہ سمندری خوراک میں خطرناک بیکٹیریا، زہریلے کیمیائی مادے اور بھاری دھاتیں شامل ہو سکتی ہیں، جو انسانوں میں معدے، جگر، گردوں، جلد اور دیگر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔سعید راجپوت نے کہا کہ کلفٹن بیچ، سی ویو، ہاکس بے، سینڈز پٹ، منوڑہ اور دیگر ساحلی علاقے پاکستان کے اہم تفریحی، ماحولیاتی اور سیاحتی اثاثے ہیں۔ اگر سمندری آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو کراچی کو اپنے قدرتی ساحلی حسن، سیاحت اور ماہی گیری کے شعبے میں ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا
کلفٹن ساحل بغیر ٹریٹمنٹ سیوریج کے اخراج سے شدید آلودہ ہو چکا ہے، سعید راجپوت