ڈیرہ اللہ یار (بیورو چیف )ڈیرہ اللہ یار اور اس کے گردونواح میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل گیا، جس نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا کر رکھ دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضرورت زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافے کے باعث لوگ شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔مہنگائی کے اس طوفان سے جہاں متوسط اور غریب طبقہ پس کر رہ گیا ہے، وہاں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور محدود آمدنی والے لوگوں کے لیے اب دو وقت کی روٹی اور گھریلو اخراجات پورے کرنا ایک خواب بن چکا ہے۔
خودساختہ مہنگائی اور منافع خوری کا راج دکاندار اپنی مرضی کے نرخ وصول کر رہے ہیں ایک ہی چیز مختلف دکانوں پر الگ الگ اور من پسند قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہے ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر مفلوج کر کے گھریلو بجٹ کا توازن بگاڑ دیا ہے مہنگائی کے اس بے لگام جن کو قابو کرنے کے لیے عارضی اقدامات کے بجائے مستقل اور ٹھوس حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اختیار رکھنے والوں کو چاہیئے کہ وہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے اور مارکیٹ سپلائی کو درست رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے تاکہ غریب شہری بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔
ڈیرہ اللہ یار میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل گیا