ن لیگ کی حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا،احسن اقبال
اسلام آباد۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ اس کی باصلاحیت نوجوان نسل ہے اور قوموں کی حقیقی ترقی معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی وسائل، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور پالیسیوں کے تسلسل سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔وہ بدھ کو اسلام آباد میں اڑان پاکستان ”مٹی کی پکار“اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پروگرام کے لیے دنیا کے 54 ممالک سے تقریباً دو ہزار ہزار درخواستیں موصول ہوئیں،انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کے بعد دنیا کی 150 ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے 45 غیر معمولی اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا۔ انہوں نے منتخب اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سخت اور شفاف مقابلے سے گزر کر اس مقام تک پہنچے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ دو ماہ پر مشتمل یہ پروگرام اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو پاکستان کے مختلف قومی اداروں میں عملی تجربہ حاصل کرنے پالیسی سازی کے عمل کو قریب سے سمجھنے اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سال پروگرام کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ پاکستانی طلبہ کے ساتھ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی اسکالرز بھی شریک ہیں، جو اس پروگرام کی بین الاقوامی اہمیت اور بڑھتی ہوئی عالمی پذیرائی کا واضح ثبوت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران یہ نوجوان وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی سینئر قیادت کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کے 5فائیو ایز فریم ورک یعنی برامدات، تونائی، ماحولیات، ای پکستان، اور مساوات و بااختیار بنانا کے تحت قومی ترقی کے مختلف شعبوں میں اپنی اختراعی سوچ، عالمی تجربات اور نئی تجاویز سے پالیسی سازی کے عمل کو تقویت دیں گے تاکہ علم کو عملی قومی حل میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ان کی اصل ذمہ داری کیا ہے جس پر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتے ہیں کہ ان کا سب سے اہم مشن پاکستان کے نوجوانوں کی تعمیر ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کی کامیابی کا راز اس کے قدرتی وسائل میں نہیں بلکہ اس کے انسانی وسائل، تعلیم اور مہارتوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملک کی خدمت کا موقع ملا، نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور عالمی معیار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی۔احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے تاریخی منصوبوں کا آغاز کیا اور نوجوانوں کو بہتر تعلیم، مہارتوں اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں عالمی ادارے پرائس واٹر ہاو¿س کوپرز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر پاکستان ترقی کی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو 2030 تک دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، لیکن بعد ازاں ایک مصنوعی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا اور ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022 میں جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو پاکستان انتہائی مشکل معاشی صورتحال سے دوچار تھا، مگر حکومت نے اپنی سیاست سے زیادہ ریاست کو بچانے کو ترجیح دی اور سخت ترین فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے نکلنے والی ایک کامیاب معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا جا رہا ہےانہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور محنتی افرادی قوت سے نوازا ہے، لیکن امن و استحکام کا فقدان، پالیسیوں میں عدم تسلسل، سیاسی عدم استحکام اور مسلسل اصلاحات کی کمی وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے قومی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے