کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے وفد بھیج کر ثالثی کی پیشکش کی ہے، مولانا فضل الرحمان…. فائدہ اٹھایا جائے ، بلاول بھٹو
اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھے ثالثی کی پیشکش کی اور ایک وفد بھیجا تھا ،اگر جے یو آئی آزاد کشمیر پیپلز پارٹی سے انتخابات میں اتحاد کرے تو میں ان کے ساتھ ہوں اور اس کی حمایت کروں گاجبکہ بلاول بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ میں آزاد کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے تیار ہوں چاہیے اس کی مجھے سزا دے دی جائے،کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں پر ڈیڈ لاک رہ گیا ہے، احتجاج اور دھرنوں سے نشستیں ختم نہیں ہوں گی اس کا ایک ہی حل ہے قانون ساز ایوان سے آئینی ترمیم کی جائے ،کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی مکر الیکشن لڑیں گے، پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کشمیر میں جے یو آئی کے ساتھ ملکر حکومت بنائے۔منگل کو پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے اوران سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاست سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کی گئی ۔بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف موجود تھے ،جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں انجینئر ضیاءالرحمان اور مولانا اسجد محمود شامل تھے ۔ملاقات کے بعد امیر جے یو آئی مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال پر دھرنا جاری ہے جبکہ میری ثالثی کی پیشکش کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے میرے پاس ایک وفد بھیجا تھا اور مجھے ثالثی کی پیشکش کی۔انہوں نے کہا کہ بلاول نے پارلیمان میں میری ثالثی کی حمایت کی جبکہ وہ خود حکومت کا حصہ ہیں، ہم ملکر وزیراعظم کو بھی پیغام بھیج رہے ہیں اور امید ہے کہ شہباز شریف آزاد کشمیر کی صورت حال پر مثبت قدم اٹھائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر جے یو آئی آزاد کشمیر پیپلز پارٹی سے انتخابات میں اتحاد کرے تو میں ان کے ساتھ ہوں اور اس کی حمایت کروں گا۔اس موقع پر بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے سیاست میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا، کشمیر میں جاری احتجاج پر مولانا سے بات کرنے آئے ہیں، ہم دونوں کی جماعتیں احتجاج کا بہت تجربہ رکھتی ہیں۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں وہ بھی کشمیر کے مسئلے پر ہمارا ساتھ دے، کشمیر میں انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے ہم چاہتے ہیں کہ صاف الیکشن ہوں۔بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی مکر الیکشن لڑیں گے، پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ کشمیر میں جے یو آئی کے ساتھ ملکر حکومت بنائے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہم عوامی ایکشن کمیٹی سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی قانون اور آئین کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے جو چیزیں سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں ا±ن پر تشویش ہے اور اس کی مذمت کرتے ہیں، ہر مسئلے کا حل بات چیت سے ہوتا ہے اور ایسے ہی سیاسی تنازع کا حل نکالا جاسکتا ہے اور ہمیں سیاسی انداز سے ہی معاملے کو حل کرنا ہوگا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں پر ڈیڈ لاک رہ گیا ہے، احتجاج اور دھرنوں سے یہ نشستیں ختم نہیں ہوں گی البتہ اس کا ایک ہی حل ہے کہ قانون ساز ایوان سے آئینی ترمیم کی جائے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ میں نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی دعوت بھی دی تاہم انہوں نے شرکت تک نہیں کی تھی، اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے میں تیار ہوں چاہیے مجھے کوئی سزا دے دیں، کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس کون بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ جب بھی مشکلات ہوں مولانا صاحب کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھایا جائے۔