ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، وزیر اعلیٰ

ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، وزیر اعلیٰ

کوئٹہ۔۔۔۔۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ضلع آواران میں ایک اہم قبائلی جرگہ منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات، خواتین، طلبہ و طالبات اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں قبائلی عمائدین اور عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عوام اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن عوام، سول انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت آوران میں ترقیاتی منصوبے لیکر آرہی ہے ، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز صوبے کے پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہی ہیں۔ وزیراعلی بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتِ بلوچستان آوران سمیت پورے مکران ڈویڑن کی تعمیر و ترقی کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے، جن کے نتیجے میں علاقے کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ بی ایس ڈی آئی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں سے علاقے میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔ وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے مستقل حل کے لیے اسی نوعیت کے مزید ترقیاتی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے تاکہ علاقے کی پائیدار ترقی اور عوام کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے علاقے میں امن و امان کے قیام اور سیکیورٹی کے فروغ کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی شخصیات کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آواران کے عوام امن پسند، باشعور اور ترقی پسند ہیں، جنہوں نے علاقے کی ترقی اور استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آواران کے پ±رامن ماحول کو خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ امن دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور آہنی ہاتھوں سے کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ جرگے میں رکنِ صوبائی اسمبلی خیر جان بلوچ، قبائلی عمائدین اور دیگر شرکائ نے علاقے میں امن و امان کے قیام، عوام کے تحفظ اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی فورسز کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے قومی یکجہتی، پائیدار امن اور علاقائی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔جرگے کے دوران شرکائ نے علاقے کو درپیش مسائل اور عوامی اہمیت کے مختلف امور پر سوالات اور تجاویز پیش کیں، جن پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے تفصیلاً جوابات دیے۔ اس موقع پر متعلقہ حکام کو عوامی مسائل کے فوری، مو¿ثر اور دیرپا حل کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

کراچی/کوئٹہ۔۔۔۔۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ لوگوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی افسوسناک واقعے کو حقائق کے برعکس پیش کرنا نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے کے بارے میں منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی منگل کو کراچی پہنچے اور دشت کے علاقے میں افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تاجر مرحوم علی مرتضیٰ کے گھر گئے ، جہاں انہوں نے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی تلقین کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ریاست ان کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن جب سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے، تاہم گرے زونز میں کارروائی ایک مشکل کام ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دشت میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کو سوشل میڈیا پر حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منفی اور گمراہ کن بیانیے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور سچ کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں پر روزانہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنے والے شہری محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا ایک انفرادی واقعے کو پورے صوبے کی صورتحال سے جوڑنا درست نہیں۔ وزیراعلیٰ نے مرحوم علی مرتضیٰ کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مرحوم کی بچیوں کی کفالت اور ان کی تعلیم و تربیت کی تمام تر ذمہ داری بلوچستان حکومت اٹھائے گی تاکہ خاندان کو ہر ممکن سہارا فراہم کیا جا سکے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں مزید مو¿ثر انداز میں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں