ضلع کیچ کے عوام کے لیے خوشخبری، جالگی بارڈر کو فوری طور پر کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ معاملات طے پاگئے

ضلع کیچ کے عوام کے لیے خوشخبری، جالگی بارڈر کو فوری طور پر کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ معاملات طے پاگئے

تربت۔۔۔۔ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی نے اتوار کے روز اپنے دفتر میں بارڈر نمائندگان کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ضلع کیچ میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے باقاعدہ سرحدی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا جائے گا، جبکہ اس سلسلے میں چند تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے کہا کہ آئی جی ایف سی بلوچستان (ساو¿تھ) میجر جنرل بلال سرفراز کی بھرپور کاوشوں سے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ اور ایف سی بلوچستان (ساو¿تھ) باہمی تعاون سے باقی ماندہ تکنیکی معاملات کو جلد مکمل کر رہے ہیں، جن کی تکمیل کے فوراً بعد جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کو تجارت کے لیے فعال کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بارڈر کی بندش کے باعث ضلع کیچ کے عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد بارڈر کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر لیا گیا اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ایرانی حکام جالگی کراسنگ پوائنٹ کھولنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو عوام اور مقامی معیشت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔یاسر اقبال دشتی نے بتایا کہ سوراپ بارڈر کراسنگ پوائنٹ اس وقت فعال ہے، تاہم ضلع تمپ کے قیام کے بعد یہ کراسنگ پوائنٹ ضلع کیچ کی حدود سے نکل کر ضلع تمپ میں شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع کیچ کے عوام کی سہولت کے لیے آئی جی ایف سی بلوچستان (ساو¿تھ) نے عارضی طور پر ضلع پنجگور میں جیرک کراسنگ پوائنٹ کھول رکھا ہے، جبکہ جولائی میں ضلع کیچ کے لیے مستقل بنیادوں پر جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ کو فعال کیا جائے گا تاکہ مقامی عوام اپنے ہی ضلع میں سرحدی تجارت سے مستفید ہو سکیں۔ڈپٹی کمشنر نے کیچ کے عوام، بارڈر نمائندگان اور تاجر برادری کے صبر و تحمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ کئی ماہ انتہائی بردباری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جالگی بارڈر کے فعال ہونے کے بعد سرحدی تجارت، روزگار اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر کھلنے کے بعد تمام متعلقہ اداروں، بارڈر نمائندگان اور تاجروں کی مشاورت سے ایک شفاف، منظم اور مو¿ثر نظام وضع کیا جائے گا تاکہ سرحدی تجارت عوام کے بہترین مفاد میں مستقل بنیادوں پر جاری رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں