آرٹیفیشل انٹیلیجنس مستقبل کی پیشنگوئی نہیں ہماری روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے،گورنر بلوچستان

کوئٹہ+کراچی:گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اب محض مستقبل کی پیش گوئی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت پہلے سے ہی تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، فنانس اور گورننس کو زیادہ مستحکم بنا رہا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی رحجانات کو دیکھتے ہوئے معتدد ممالک، ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور بین الاقوامی سرمایہ کار ان نئے شعبوں میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ گویا عالمی معیشت اور انسانی معاشرت بڑی تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور آٹومیشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تقاضوں پیشِ نظر ہم تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں مضبوط بنیادیں رکھ رہے ہیں۔ ہماری دانشمندانہ حکمت عملی زندگی کے تمام شعبوں کے پالیسی سازوں اور منصوبہ سازوں کو خاطر خواہ مدد اور فکری رہنمائی فراہم کریگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنا ایک اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم قومی ذمہ داری بھی ہے۔ دن بہت قریب ہے جب ہمارے نوجوان دوسرے صوبوں اور خلیجی ممالک میں ڈرائیور، مزدور یا سیکیورٹی گارڈ کی بجائے اے ائی انجینئر، سافٹویئر ڈویلپر، ڈیٹا سائنسدان اور ریسرچر کی حیثیت سے جائنگے۔ گورنر مندوخیل نے مزید کہا کہ جو لوگ وقت پر اڑنا سیکھ جاتے ہیں تو پھر وہ مواقع کا انتظار نہیں کرتے۔ آج اگر ہم نے بروقت جدید ٹیکنالوجی کو نہیں اپنایا تو پھر ہم زندگی کی ہر دوڑ میں بھاگنے کی بجائے رینگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں شدید غربت، محدود وسائل اور کئی دہائیوں کی کم سرمایہ کاری نے روایتی سے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی طرف تبدیلی کو مزید مشکل بنا دیا ہے تاہم اب بھی ہم اپنی ٹھوس منصوبہ بندی، دور اندیشی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اجتماعی کوششوں سے ان رکاوٹوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی نصاب متعارف کرانے کیلئے فوری اقدامات کریں اور تعلیمی پروگراموں کو جاب مارکیٹ کی ترقی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو اپنے تحقیقی مراکز کی مکمل فعالیت کو یقینی بنائیں تاکہ جدید ریسرچ پر مبنی علم پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محض کتابی ریسرچ کی بجائے اپلائیڈ ریسرچ کے ذریعے ہم اپنے معاشی، زرعی اور سماجی چیلنجوں کیلئے پائیدار حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات کی روشنی میں گورنر نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہوگا جس کے نتیجے وہ نہ صرف سرکاری ملازمتیں حاصل کرینگے بلکہ کاروباری سطح پر بھی دیگر بےروزگاری نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے والے بن سکیں گے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم اپنی یونیورسٹیوں میں ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ بلوچستان بھر کی کئی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں اے آئی سینٹرز اور لیبارٹریز کے قیام کیلئے پہلے ہی کام جاری ہے۔ واضح رہے کہ یہ محض نمائشی اقدامات نہیں بلکہ ہمارے روشن مستقبل میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہیں۔ ہمارا وڑن اور عزم بلوچستان کو ڈیجیٹل ایکسلینس، جدت کاری اور تکنیکی ترقی کے مرکز میں تبدیل کرنے میں ضرور مدد کریگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں