کراچی (اسٹاف رپورٹر ) کراچی ایکسپو سینٹر میں سامانِ شفا فاونڈیشن (SSF) کی جانب سے 23 ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفیٰ کمال تھے جبکہ اس موقع پر سید عارف شاہ سی ای او سامانِ شفا فاونڈیشن، پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد نور چیئرمین سامانِ شفا فاونڈیشن ، ملائشیائ، چائنا، ترکیہ اور دیگر ممالک کے قونصل جنرلز سمیت (DRAP) کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبیداللہ ملک، ملیر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید ٹیپو سلطان، ری وائیو میڈیکل ٹیکنالوجیز کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ نجابت علی،کنیک ٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو عقیل احمد،چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری (IPMDI) میجر جنرل (ر) اعجاز غنی، سی ای او ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری اینڈ ڈائگناسٹک سینٹر اور اعزازی کمانڈر سرجن ڈاکٹر فرحان عیسیٰ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر سامانِ شفا فاونڈیشن اور پاکستان الیکٹرو میڈیکل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن (PEMDA) کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے، جبکہ میڈیکل ڈیوائسز کی صنعت کی جانب سے پیش کی جانے والی پالیسی سفارشات کو DRAP کو جمع کرانے کے لیے منظور کر لیا گیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری سید مصطفیٰ کمال نے مقامی سطح پر میڈیکل ڈیوائسز کی تیاری کی جانب منتقلی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی سستی اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طبی آلات کی مقامی تیاری کو فروغ دینے سے نہ صرف درآمدات پر انحصار کم ہوگا بلکہ قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی حکومت مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ملکی سطح پر معیاری میڈیکل ڈیوائسز کی تیاری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی ی سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کے انجینئرز اور میڈیکل ڈیوائسز تیار کرنے والے اداروں میں بھرپور صلاحیت موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں سازگار پالیسی، مناسب سہولیات اور مقامی مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کی جائے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والے معیاری طبی آلات کو سرکاری اسپتالوں میں ترجیح دینے سے ملکی صنعت کو فروغ ملے گا اور مریضوں کو کم لاگت پر بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں گی اس موقع پر چیئرمین سامانِ شفا فاونڈیشن پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد نور نے کہا کہ جو ملک اپنے آسمان کا دفاع کرسکتا ہے، وہ اپنے وینٹی لیٹرز بھی تیار کرسکتا ہے پاکستان کو ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں بلکہ پالیسی کے خلا کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے انجینئرز نے طبی آلات تیار کیے اور DRAP نے انہیں منظور بھی کیا اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی قومی پالیسی بنائیں جو مارکیٹ کی ضمانت دے، ٹیکسوں کو منطقی بنائے اور ریگولیٹری عمل کو آسان کرے اس کے بغیر ہم ان مصنوعات کو درآمد کرتے رہیں گے جنہیں ہم خود تیار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں پروفیسر ڈاکٹر سید شاہد نور نے کہا کہ سامانِ شفا فاونڈیشن اب اس پالیسی سازی کے عمل کا باضابطہ حصہ بن چکی ہے کانفرنس کے موقع پرسید عارف شاہ سی ای او سامانِ شفا فاونڈیشن نے کہا کہ ہم ایسے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی حمایت کرتے ہیں جو عالمی معیار کی ضروریات پر پورا اترتی ہوں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ شعبہ کامیاب ہوانتہائی نگہداشت کے یونٹ میں استعمال ہونے والا طبی آلہ ہر مرتبہ قابلِ اعتماد کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ میڈیکل ڈیوائسز ملکی سطح پر تیار ہونے سے نہ صرف نئی صنعتوں کا قیام عمل میں آئے گا بلکہ ملازمت کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات انتہائی مناسب قیمت پر دستیا ب ہو سکیں گی جبکہ غیر ملکی مارکیٹ پر بھی انحصار کم ہو گا۔
عوام کو صحت کی سستی اور معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے سید مصطفیٰ کمال
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل