مجھے بھارت سے نہیں پاکستان کے تین صوبوں سے خطرہ ہے،سہیل آفریدی

لاہور:وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لاہور میں پنجاب پولیس کی کارروائی کے دوران گرم تیل کی کڑاہی میں پھینکے جانے سے شہید ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن اشتیاق احمد کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور پنجاب پولیس کی کارروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے اشتیاق احمد کی شہادت پر فاتحہ خوانی کی، اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے اہلخانہ کو ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایک اشتیاق احمد کو گرم تیل کی کڑاہی میں پھینکنا انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور ناقابل قبول اقدام ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر قائدین بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ بعد ازاں، وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے 27 ستمبر لانگ مارچ کے حوالے سے لاہور میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کی قیادت کی، مختلف مقامات پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور عمران خان کے حامیوں نے ان کا پ±رجوش نعروں اور والہانہ جذبے کے ساتھ بھرپور استقبال کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لاہور میں دو موریا پل کے مقام پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جن لوگوں نے میلاد کی تیاری کرنے والے ہمارے کارکن اشتیاق احمد کو شہید کیا، مجھے ان سے سکیورٹی نہیں چاہیے۔ پنجاب پولیس تھانوں میں واپس جائے، پنجاب کے لوگ تم سے اور تمہاری وردی سے نفرت کرتے ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کہتی ہیں کہ مجھے بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ میں آج واضح اعلان کرتا ہوں کہ مجھے پنجاب کے بھائی بہنوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ پنجاب کے عوام میرے ہیں، پنجاب میرا ہے، میں پنجابیوں کا ہوں اور مجھے کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمارا تعلق پاکستان سے ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کو عوام نے مسترد کیا ہے، یہ لوگ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں بیٹھے ہیں۔وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب پولیس میرے لیے کوئی روٹس نہ لگائے اور میرے لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ میں عوامی وزیر اعلیٰ ہوں اور عوام کے درمیان رہ کر خوش ہوتا ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 27 ستمبر صرف ایک سیاسی کال نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کن دن ہے۔ عوام 27 ستمبر کو حقیقی جمہوری مینڈیٹ، عدلیہ کی آزادی، میڈیا کی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی اور ظلم و جبر کے نظام سے نجات کے لیے گھروں سے نکلیں گے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو عوام واضح کردیں گے کہ ملک میں فیصلے عوام کے ووٹ اور مینڈیٹ سے ہوں گے، دھاندلی اور جبر سے نہیں۔ ملک میں حقیقی آزادی کے حصول کے لیے عوامی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا قافلہ مال روڈ پر ریگل چوک پہنچ گیا، جہاں سہیل آفریدی پولیس کی پریزن وین پر چڑھ گئے۔ اس دوران سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں کسی کو تنگ نہیں کر رہا، مجھے تنگ کیا جا رہا ہے۔ ہمارے کارکنوں کو رہا کیا جائے پھر آگے بڑھوں گا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پریزن وین سے اترنے سے انکار کیا، جس کے بعد پولیس اہلکار وزیراعلیٰ سمیت وین لے کر چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں