کوئٹہ۔۔۔۔۔۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سردار اختر مینگل کی جانب سے مبینہ طور پر نازیبا زبان کے استعمال کے معاملے پر معاون وزیر اعلیٰ برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند کی ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ آج بھی دن کے اجالے میں انقلابی بنتے ہیں، مگر رات کی تاریکی میں کراچی میں بیٹھ کر سارونہ کی ڈیل کے لیے مذاکرات کرتے ہیں اور 2018 جیسی سیاسی ڈھیل مانگتے ہیں، انہیں تاریخ کا آئینہ دکھانے سے پہلے اپنے سیاسی کردار پر نظر ڈالنی چاہیے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ باتیں انقلاب کی اور معاملات ڈیل کے، دن میں مزاحمت اور رات میں ڈیل، پھر بھی دعویٰ انقلاب کا۔ انہوں نے سیاسی طرز عمل میں اس تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور تاریخ سیاسی دعووں کے بجائے عملی کردار کو دیکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے ردعمل کے اختتام پر معروف شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا
”ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا“
اس سے قبل معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے اپنی ٹوئٹ میں سردار اختر مینگل کے مبینہ طور پر نازیبا طرزِ گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی قوتیں اور سیاسی قیادت اگر سیاسی انداز میں بات کریں گی تو جواب بھی سیاسی انداز میں دیا جائے گا، یہی سیاسی تربیت، جمہوری رویہ اور اختلافِ رائے کا سلیقہ ہے شاہد رند نے کہا تھا کہ اگر گفتگو مغلظات اور گالم گلوچ تک لے جائی جائے تو پھر تاریخ بھی اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ انہوں نے ماضی کے بعض سیاسی واقعات اور کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کے کرداروں پر لیکچر دینے سے پہلے اپنے ماضی کے آئینے میں جھانک لینا چاہیے۔معاون وزیر اعلیٰ نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ بلوچستان میں ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف میدان میں برسرِپیکار ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بقول بعض نام نہاد قوم پرست عناصر کی سیاست دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی پر سوال اٹھانے اور دہشت گردوں کے لیے جواز تلاش کرنے تک محدود ہے۔شاہد رند نے کہا تھا کہ سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہے تاہم دہشت گردی کے معاملے پر ریاست اور عوام کے خلاف کھڑے عناصر کے لیے نرم گوشے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے ردعمل اور شاہد رند کی ٹوئٹ کے بعد بلوچستان کی سیاست میں ماضی کے سیاسی کردار، ڈیل اور سیاسی ڈھیل کے حوالے سے بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
عوام اور تاریخ سیاسی دعووں کے بجائے عملی کردار کو دیکھتے ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان