ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کرینگے،ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں‘ مولانا فضل الرحمن

لاہور۔۔۔۔۔۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو اپنے ضمیر کی بات کریں گے،ہم خیرخواہی کی بنیاد پر بات کرتے ہیں، ہم آپ کی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں، ہم آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،آپ کا مزاج بن گیا ہے کہ آپ کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے، اگر کوئی سیدھی بات کرے تو وہ آپ کو بری لگتی ہے۔لاہور میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ہم ملک کو آپ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے شہری ہیں، اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ہم اصولاً کسی یونٹ کے بنانے کے خلاف نہیں ، یونٹس بنتی رہتے ہیں، بھارت میں بھی بنے ہیں، افغانستان میں بھی بےن ہیں، دوسرے ملکوں میں بھی بنے ہیں، لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہیے۔ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا کو صوبے میں انضمام نہیں ہونا چاہیے،ہم نے کہا، دو تین آپشنز ہیں، یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی اور یہ صورت بھی،یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذافاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے، ان کی منشا ءسے فیصلہ کیا جائے،لیکن آپ نے ان پر تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟۔اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئیے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے،آج مجھے کہا جاتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔انہوںنے کہا کہ ایک فیصلہ تو بتا دو اللہ کے بندو، جو تم نے کیا ہو اور اس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوںکیوں ایسا کرتے ہو؟ آخر لوگوں سے پوچھو۔یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ہم کہتے ہیںجس پر ہم کہتے ہیں بحث کرنی چاہیے، یکطرفہ آپ کوئی فیصلہ مسلط نہ کریں، یہ ملک عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے، عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب 57فیصد تک پہنچ گیا ہے اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کمی ہی نہیں ہو سکتی،یہ ان کو ہضم نہیں ہو رہا،اب صوبے تقسیم کرو تاکہ ازسرِنو پھر ہم معدنیات کے فیصلے بھی پھر سے کریں اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے بھی پھر سے کریں،تو ہم تو صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے،اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ (ن)خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔مسئلہ مرکز میں حکومت مسلم لیگ (ن)کی ہے اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں ۔اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں،ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ ،اس میں تضادات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں