غیرت کے نام پر قتل کسی صورت قابل قبول نہیں، جرگوں کو قانون پر فوقیت نہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد: چیئرپرسنسینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی زیر صدارت اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل، غیر قانونی جرگوں اور پنچایتوں، صنفی بنیادوں پر تشدد، سائبر ہراسگی، احمد جاوید کیس اور جڑانوالہ واقعے سمیت اہم انسانی حقوق کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران مختلف صوبوں کی جانب سے غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم پر بریفنگ دی گئی، جس پر کمیٹی، خصوصاً چیئرپرسن سینیٹر ثمینہممتاز زہری نے کم سزا کی شرح، تحقیقات میں تاخیر اور استغاثہ کی کمزوریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متوازی نظام انصاف کا مسلسل وجود قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہا ہے اور متاثرین کو انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے واضح کیا کہ غیرت کے نام پر قتل کسی صورت قابل قبول نہیں اور ہر بالغ مرد و عورت کو آئین پاکستان کے تحت اپنی زندگی اور شادی سے متعلق فیصلے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر تشدد نہ تو کوئی ثقافتی روایت ہے اور نہ ہی قابل جواز عمل، بلکہ یہ سنگین جرم اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کمیٹی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جرگے اور پنچایتیں کسی طور آئین اور عدالتی نظام پر فوقیت حاصل نہیں کر سکتیں اور فوجداری مقدمات کا فیصلہ صرف عدالتوں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔ اس موقع پر تشدد میں ملوث عناصر کے مکمل احتساب کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ اجلاس میں احمد جاوید کیس کی تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی۔ علاوہ ازیں ایک خاندان کے خلاف مبینہ توہین آمیز سوشل میڈیا مہم کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور آن لائن پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی روک تھام پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے این سی سی آئی اے کے نمائندوں کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں ان کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ مزید برآں جڑانوالہ واقعے پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے بروقت انصاف، متاثرین کو منصفانہ معاوضے کی فراہمی، ذمہ دار عناصر کے کڑے احتساب اور اقلیتی برادری کے حقوق کے مو¿ثر تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ ریاستی نظامِ انصاف، مساوات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے عزم کا اہم امتحان ہے۔ اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے، کمزور طبقات کے تحفظ اور تمام شہریوں کے لیے انصاف، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں