سیالکوٹ(این این آئی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے پمز میں سامنے آنے والے معاملات کو صحت کے شعبے کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں کرپشن کا ایک پورا نیٹ ورک موجود ہے جسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ہفتہ کو یہاںورکرز اور ان کے خاندانوں کےلئے طبی سہولت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پمز میں جو کچھ ہوا اس پر وزیراعظم نے بھی نوٹس لیا ہے اور امید ہے کہ اس معاملے کے کچھ نتائج سامنے آئیں گے تاہم صورتحال کو درست کرنا ضروری ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ جس شعبے کا نصب العین انسانی جانیں بچانا ہونا چاہیے، وہاں بعض عناصر نے اپنی جیبیں بھرنے اور کرپشن کو مقصد بنا لیا ہے، جو حکومتوں، عوام اور متعلقہ اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کرپشن کا ایک نیکسس آج بھی قائم ہے اور اسے توڑنے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے، پنجاب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گزشتہ 2 سے ڈھائی سال کے دوران صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے پر توجہ دی ہے اور کئی شعبوں میں بہتری آئی ہے، تاہم ملک کے دیگر حصوں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس وقت ایک اسپتال میں کھڑے ہیں، اس لیے صحت کے شعبے کے مسائل کی بات کر رہے ہیں لیکن پمز کا معاملہ صرف ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ حکومتوں، عوام اور ان تمام افراد کے لیے لمحہ فکریہ ہے جن کے پاس اختیارات اور ذمہ داریاں ہیں۔انہوں نے صحت کے اداروں کی نگرانی کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض جگہ ریگولیٹری اداروں میں ایسے لوگ شامل رہے ہیں جو خود میڈیکل کالجز یا اسپتالوں کے مالکان تھے، ان کے بقول اگر نگرانی کرنے والے ہی متعلقہ کاروبار کے مفادات سے جڑے ہوں تو موثر نگرانی کیسے ممکن ہوگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کئی برس سے بعض اسپتالوں کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کے معاملات بھی سوالات کی زد میں ہیں اور بعض بڑے اسپتالوں کے پاس لائسنس موجود ہیں لیکن صحت کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے مال کمانا ترجیح بنتی جا رہی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے جو پورے ملک میں پھیل چکا ہے اور حکومتوں کا فرض ہے کہ اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے پنجاب میں منظم انداز میں کرپشن کے خلاف اقدامات کو بھی سراہا اور کہا کہ پہلے معلومات اور اعداد و شمار جمع کیے جائیں اور پھر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔سیالکوٹ میں طبی سہولتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ورکرز اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک معیاری طبی ادارے کی ضرورت تھی کیونکہ سیالکوٹ اپنی صنعت اور برآمدات کے حوالے سے دنیا بھر میں شناخت رکھتا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ آنے والے دنوں میں جدید طبی سہولتوں کا مرکز بنے گا۔انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ میں گوجرانوالہ کی کینسر کی سہولت کو توسیع دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے بھی ایک یونٹ قائم کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ آئندہ 6 ماہ کے دوران شہریوں کو ان سہولتوں میں مزید پیشرفت نظر آئے گی۔خواجہ آصف نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کے لیے تعاون اور فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں توسیع کے ساتھ دل کے علاج کے لیے بھی الگ سہولت قائم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں عوام کی سہولت کے لیے مختلف ادارے بن رہے ہیں اور ترقی کا سفر جاری ہے، تاہم صحت کے شعبے میں کرپشن کے خاتمے اور شفاف نظام کے قیام کے بغیر حقیقی بہتری ممکن نہیں۔
سانحہ پمز خطرے کی گھنٹی ہے، جتنی لوٹ مار صحت کے شعبے میں ہے وہ کہیں اور نہیں، خواجہ آصف
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل