لاہور۔۔۔۔۔۔ وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے کمیٹیاںتشکیل دینے پر اتفاق کرلیا ، مذاکرات کا آغاز پیر سے ہوگا ،جبکہ امیر جماعت اسلامی کی جانب سے مذاکرات کے ساتھ دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی رانا ثنا اللہ اور سلمان رفیق پر مشتمل حکومتی وفد نے منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر لیاقت بلوچ ، نذیر احمد جنجوعہ ،نصر اللہ رندھاوا اور نوید بیگ سے ملاقات اور مذاکرات کئے ۔حکومتی وفد کی جانب سے جماعت اسلامی کی قیادت کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے مختلف شہروں میں جاری دھرنے ختم کرنے کی درخواست کی گئی ۔مذاکرات کے بعد جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت اور جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی میں کمی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں گی جو قابل عمل تجاویز پر مذاکرات کریں گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں، حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے اور جماعت اسلامی کی بھی خواہش ہے کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے، حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور جتنا ممکن ہوسکا عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے گی،مذاکرات میں حکومت اپنا موقف جماعت اسلامی کے سامنے رکھے گی۔احسن اقبال نے بتایا کہ حکومتی وفد نے لاہور میں جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی جس میں پیٹرولیم لیوی سمیت عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ حکومت ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے گی جبکہ جماعت اسلامی سے بھی ایسی ہی کمیٹی بنانے کی درخواست کی گئی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی ہو جس سے دشمن ملک فائدہ اٹھائے، اس وقت ملک دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں عوامی اجتماعات کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے، وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم سب مل کر ملک میں امن کے لیے کوشش کریں۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومتی وفد کی گفتگو بڑے اچھے انداز میں سنی۔ جماعت اسلامی نے یقین دلایا ہے کہ کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا جائے گا جس سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں کہ اس نے حکومتی وفد کا اچھے طریقے سے استقبال کیا اور ہماری بات سنی۔جماعت اسلامی کا موقف بھی یہی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے، وزیراعظم شہباز شریف بھی یہی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ ، ایران جنگ کی وجہ سے آنے والی مہنگائی کے سیلاب سے عوام کو کیسے ریلیف دیا جائے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم سے پیر سے مذاکرات کا آغاز ہوگا اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں تک مطالبات پر مثبت پیشرفت ہوگی۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کے وفد سے متعدد امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ہمارا خالصتاًایجنڈا عوام کے بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنا ہے، جماعت اسلامی کے دھرنوں کو 19روز ہو گئے ہیں، ابتدا ءمیں تین مقامات سے دھرنے شروع کیے گئے تھے جو اب بڑھ کر تقریباً 15 سے 20 مقامات تک پہنچ چکے ہیں اور ان میں لوگوں کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مذاکرات کی حکومتی دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر لاہور ضیاءالدین انصاری ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور نوید علی بیگ پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا جو حکومتی ٹیم سے پٹرولیم لیوی کے خاتمہ کے مسئلہ پر مذاکرات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے یہ دھرنے کسی شوق یا ذاتی ایجنڈے کے تحت نہیں دئیے، ملک میں جماعت اسلامی کا کوئی انتخاب بھی نہیں ہورہا، ہمارا خالصتاًایجنڈا عوام کے بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہر شخص، ہر خاتون اور ہر بچہ اس سے متاثر ہورہا ہے، لوگوں کے لیے زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹس اور بڑے خریداری مراکز میں نظر آنے والے لوگوں کی تعداد پاکستان کی مجموعی آبادی کے تناسب سے چند فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ 90 سے 95 فیصد لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی رپورٹس کے مطابق 40 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ایسے حالات میں بنیادی سہولیات اور ضروری اشیا کی قیمتیں بھی اگر بہت زیادہ ہوجائیں تو عام آدمی کہاں جائے گا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موٹر سائیکل چلانے والا ایسا شخص جس کی آمدنی قابل ٹیکس نہیں، وہ ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 35 فیصد تک ٹیکس ادا کر رہا ہے، جس میں تقریباً 80 سے 85 روپے کی لیوی بھی شامل ہے، یہ بڑی زیادتی ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اس مقصد کے لیے عائد کی گئی تھی کہ اس سے ریفائنریوں کی صلاحیت اور ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کا درآمدی بوجھ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اب تک تقریباً 8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں، جبکہ حکومت نے گزشتہ سال لیوی کی وصولی کا جو ہدف مقرر کیا تھا اس سے بھی تقریباً 100 ارب روپے زیادہ جمع کیے گئے اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب جنگ جاری تھی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگ اور ہنگامی حالات میں بڑے بڑے معاہدے بھی عارضی طور پر معطل ہوجاتے ہیں لیکن پاکستان میں بجلی کے ایسے معاہدوں کے تحت ادائیگیاں جاری رہیں جن کے باوجود بجلی پیدا نہیں ہوتی، اسی طرح گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں کو بھی روزانہ تقریباً 5 لاکھ 38 ہزار ڈالر ادا کیے جارہے ہیں حالانکہ اس وقت مطلوبہ مقدار میں گیس درآمد نہیں ہورہی۔انہوں نے کہا کہ گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں سے متعلق معاہدوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، ایسے معاہدے ہونے چاہئیں جن میں استعمال کے مطابق ادائیگی ہو، صرف صلاحیت برقرار رکھنے کی بنیاد پر ادائیگی نہ کی جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معیشت کا پہیہ نہیں چلے گا تو گھریلو صنعت اور بڑی صنعت دونوں متاثر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی بنیادی تجویز پیٹرولیم لیوی ختم کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ جماعت اسلامی ہٹ دھرمی پر مبنی مطالبات نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے دھرنے موخرکرنے کی درخواست کی تھی تاہم جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات کے ساتھ دھرنے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،دھرنے چلتے رہیں گے تو بات چیت میں مزہ آئے گا۔
پیٹرولیم لیوی میں کمی کیلئے حکومت ،جماعت اسلامی کا کمیٹیاں قائم کرنے پر اتفاق
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل