جذباتی نعروں کے بجائے اپنی معاشی، سیاسی اور خارجہ پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا، مولانا فضل الرحمن

سکھر(این این آئی)جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کے مسائل انتہائی سنگین ہوچکے ہیں، قیام پاکستان کو تقریباً 80 سال مکمل ہونے کو ہیں، مگر مفاداتی سیاست اور غلط پالیسیوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں اور سمت کا ازسرنو جائزہ لے کر فوری اصلاح کرنا ہوگی۔وہ سکھر میں جمعیت علماءاسلام سندھ کی مجلس عمومی کے اہم اجلاس سے خصوصی خطاب کررہے تھے۔ اجلاس میں جے یو آئی سندھ کے مرکزی و صوبائی رہنماو¿ں مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، مولانا عطاءالرحمٰن، انجینئر ضیاءالرحمٰن، علامہ راشد محمود سومرو، مولانا سعود افضل ہالیجوی، محمد اسلم غوری، مولانا سراج احمد شاہ امروٹی، مولانا عبدالمجیب قریشی سمیت دیگر رہنماو¿ں نے خطاب کیا، جبکہ سندھ بھر سے مجلس عمومی کے اراکین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام نے ہر دور میں آمریت اور غلط پالیسیوں کی مخالفت کی ہے۔ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے خلاف جے یو آئی نے میدان میں نکل کر اصولی موقف اختیار کیا۔ ہم کسی کی خواہش یا طے کردہ ترجیحات کے مطابق نہیں چل سکتے بلکہ ملک و قوم کے مفاد اور آئین کے دائرے میں اپنی سیاست کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ملک جس مقام پر کھڑا ہے، وہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال تباہ ہوچکی ہے، معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور قومی مسائل کے زخم مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ ملک مزید غلط فیصلوں اور تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ بھارت کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ وہ اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ پاکستان کی معیشت مسلسل مشکلات سے دوچار ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر محدود سطح پر ہیں۔ ہمیں جذباتی نعروں کے بجائے اپنی معاشی، سیاسی اور خارجہ پالیسیوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ خطے میں کیا ہورہا ہے، قوم کو اس سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ اگر بعض معاملات عوامی سطح پر بیان نہیں کیے جاسکتے تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے ہونے چاہئیں، یہ اہم قومی معاملہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور اور قومی سطح پر مشاورت ضروری ہے۔انہوں نے صوبوں کی تقسیم اور نئے صوبے بنانے کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو تقسیم کرنے اور عوام کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ ملک کو تقسیم کرنے کے علاوہ بعض حلقوں کے پاس کوئی اور ایجنڈا نظر نہیں آتا۔ صوبوں کی تقسیم کی بات ایسے وقت میں کی جارہی ہے جب ملک کا ماحول اس قسم کے نئے تنازعات کا متحمل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ملکی معیشت مزید انتشار برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت اور سیاسی عمل کا بنیادی حق ہے۔ اگر کوئی آپ کی رائے سے اختلاف کرتا ہے تو اسے دشمن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ملک کو جبر اور طاقت کے ذریعے نہیں چلایا جاسکتا، عوام کی رائے اور ان کی حقیقی نمائندگی کو تسلیم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور اسے آئین و قانون سازی سمیت آئینی ترامیم کا اختیار حاصل ہے، تاہم کسی بھی آئینی ترمیم سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود نمائندگی عوام کی جائز اور حقیقی نمائندگی ہے یا نہیں۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ جب بھارت کے ساتھ جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو جمعیت علماءاسلام نے حکومت اور ملک کا ساتھ دیا، کیونکہ قومی سلامتی کے معاملات میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کے مفاد کو مقدم رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں جمعیت علماء اسلام ایک بڑی اور مو¿ثر سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے۔ ہم یہاں صرف سکھانے نہیں بلکہ سیکھنے کے لیے بھی آئے ہیں۔ کارکنان اور ذمہ داران ملکی، صوبائی اور قومی معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھیں اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد مزید مو¿ثر بنائیں۔مولانا فضل الرحمن نے حکمرانوں پر زور دیا کہ ملک کے حالات کا سنجیدگی سے ادراک کیا جائے، کیونکہ موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ حکومت کو اپنی سمت درست، عوام کا اعتماد بحال اور آئین، پارلیمنٹ اور حقیقی جمہوری اصولوں کے مطابق ملک کو آگے لے جانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں