کوئٹہ….. صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات حکومت بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو امت مسلمہ کے اتحاد کی نئی تاریخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان یہ تاریخی دفاعی تعاون خطے میں امن، استحکام، مشترکہ سلامتی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اپنے ایک بیان میں میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں ممالک کے درمیان قائم ہونے والا دفاعی تعاون نہ صرف تینوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ اس کے خطے کی مجموعی سلامتی اور مسلم امہ کے اتحاد پر بھی دور رس مثبت اثرات مرتب ہوں گے صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ جیسے برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینا موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ دفاعی تعاون کے ذریعے خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا زیادہ مثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے گا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ یہ دفاعی معاہدہ صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات خطے کے امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور باہمی تعلقات پر بھی مرتب ہوں گے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مسلم دنیا کے لیے ایک مثبت پیغام ہے اور اس سے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور باہمی اعتماد مزید مضبوط ہوگا انہوں نے کہا کہ “یہ معاہدہ وزیراعظم پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور موجودہ دفاعی تعاون اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، تجربے اور قربانیوں کے باعث دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم اور افواج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، جبکہ دفاعی شعبے میں پاکستان کے تجربات اور صلاحیتیں برادر ممالک کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون سے مشترکہ سلامتی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی میر شعیب نوشیروانی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے پاکستان کی دفاعی قوت میں اضافے کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو باہمی تعاون کا ایک نیا پلیٹ فارم بھی میسر آئے گا۔ تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور دفاعی تعاون آنے والے دنوں میں مزید وسیع ہونے کی توقع ہے، جس سے خطے میں امن اور استحکام کے امکانات بڑھیں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پائیدار امن اور مستحکم سیکیورٹی ماحول بنیادی ضرورت ہے۔ اگر خطے میں امن و استحکام قائم ہوگا تو تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، معدنیات، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گےصوبائی وزیر خزانہ و معدنیات نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور برادر اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے ثمرات بلوچستان کے عوام تک پہنچانے کے لیے بھی ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم خطے میں واقع ہے اور صوبے میں موجود معدنی وسائل، قدرتی دولت اور دیگر معاشی امکانات اسے خطے میں خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ امن و استحکام کی صورتحال بہتر ہونے سے بلوچستان میں سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں، جس سے صوبے کے عوام کو روزگار اور معاشی ترقی کے بہتر مواقع میسر آئیں گے انہوں نے کہا کہ BSDI کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو بھی نئے علاقائی تعاون سے مزید تقویت ملنے کی امید ہے۔ حکومت بلوچستان صوبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری، عوامی سہولیات کی فراہمی، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مضبوط تعلقات کو اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور سفارتی شعبوں میں مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر قائم ہونے والا تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہو سکتا ہے اور اس کے مثبت اثرات پورے خطے تک پہنچ سکتے ہیں میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں اسلامی ممالک کا باہمی تعاون، ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کے دیرینہ اور قابل اعتماد برادر ممالک ہیں اور ان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے نہ صرف مشترکہ سلامتی کے معاملات میں پیش رفت ہوگی بلکہ باہمی تعلقات کو نئی جہتیں بھی ملیں گی میر شعیب نوشیروانی نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والا یہ تاریخی دفاعی تعاون مستقبل میں مزید شعبوں تک پھیلے گا اور تینوں ممالک کی قیادت باہمی مفادات، امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرے گی صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ اس دفاعی معاہدے کے خطے اور پوری مسلم امہ پر دور رس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ باہمی تعاون سے امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد کی نئی تاریخ ہے میر شعیب نوشیروانی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل