اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کھجور کے منصوبے، گندم کی صورتحال، ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی، جعلی جوسز، پینے کے پانی کے معیار اور فوڈ سیفٹی سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں کھجور کی پیداوار وافر مقدار میں موجود ہے، ضرورت صرف اس کی بہتر مینجمنٹ کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر میں کھجور پروسیسنگ کے تین پلانٹس لگانے کی تجویز زیر غور ہے اور پاکستانی کھجور کے اعلیٰ معیار کے باعث متحدہ عرب امارات کی خلیفہ فاو¿نڈیشن نے پاکستان کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم کی منظوری سے کھجور منصوبے کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اونٹ کے خشک دودھ کے منصوبے کی بھی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کارپوریٹ فارمنگ اختیار کرنے والے چھوٹے کاشتکاروں کو مفت کھاد اور زرعی مشینری فراہم کی جائے گی۔گندم کے معاملے پر رانا تنویر حسین نے واضح کیا کہ گندم کی امدادی قیمت 5500 روپے فی من مقرر کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے اور صوبوں کو بھی خود گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان کے مطابق درآمدی گندم تقریباً 4300 روپے فی من پڑے گی، جبکہ پنجاب نے آٹھ لاکھ ٹن، سندھ نے سات لاکھ ٹن، خیبرپختونخوا نے دو لاکھ ٹن اور بلوچستان نے پچاس ہزار ٹن گندم کی طلب ظاہر کی ہے۔وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کی فراہمی کا فیصلہ آج متوقع ہے، جبکہ صوبوں کی جانب سے گندم خریدنے کے باوجود وفاق کو ادائیگیاں نہ ہونے کا مسئلہ بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔کھجور منصوبے پر چیئرمین کمیٹی سید حسین طارق نے ہدایت دی کہ منصوبہ دوبارہ وزارت کو بھیجا جائے، جبکہ رکن کمیٹی جاوید علی شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر منصوبے پر “نارووال” لکھ دیا جائے تو شاید جلد منظور ہو جائے۔ اس پر وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم سے خود بات کریں گے۔اجلاس میں جعلی اور غیر معیاری جوسز کی فروخت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سیکرٹری قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ کئی کمپنیاں فلیور ڈرنکس کو جوس کے نام سے فروخت کر رہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آم کے جوس میں کم از کم 25 فیصد آم کا گودا ہونا چاہیے، جبکہ صنعت صرف پانچ فیصد شامل کرنے پر زور دے رہی تھی۔رانا تنویر حسین نے انکشاف کیا کہ ماضی میں بعض سرکاری اہلکار فیکٹریوں کی جانچ کے دوران رشوت لے کر واپس آ جاتے تھے، اسی لیے مو¿ثر انسپکشن فورس بنانے کی تجویز دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ غیر خالص جوس کے ڈبوں پر واضح وارننگ درج کی جائے گی کہ یہ خالص جوس نہیں اور بچے و حاملہ خواتین اسے استعمال نہ کریں۔اجلاس میں بوتل بند پانی کے معیار پر بھی گفتگو ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے شدید گرمی میں دھوپ میں رکھی پانی اور جوس کی بوتلوں کے ممکنہ مضر اثرات پر سوال اٹھایا، جبکہ وفاقی وزیر نے جعلی برانڈز کے نام سے پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ پانی کے نمونوں کی جانچ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) سے کرائی گئی ہے۔کمیٹی نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ بوتل بند پانی کے معیار کی جانچ کر کے اپنی رپورٹس کمیٹی کو پیش کریں۔ علاوہ ازیں جوسز کے معاملے پر قائم اسٹیئرنگ کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی۔
وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل