ملکی ترقی میں بلوچستان نے بھر پور کردار ادا کیا ہے،وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018 میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا ، ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی، افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے،خطے میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ،پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشیں قابل تحسین ہیں ،بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی،ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گاتمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرےگا،کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک کا 300ارب روپے کا منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہوجائےگا،پنجاب نے این ایف سی ایوارڈکی مد میں 150ارب روپے بلوچستان کو دیئے ،باقی صوبوں نے بلوچستان کی ترقی کےلئے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ،بلوچستان کو لیپ ٹاپ اوروظائف کی تقسیم میں 10فیصد زائد کوٹہ دیا جارہا ہے، کچھی کینال منصوبے کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا ،پاکستان کے مسائل کا حل شفاف حکومتی نظام میں مضمر ہے۔ وہ جمعہ کو یہاںبلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کررہے تھے ۔ تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ،وفاقی وزیر تجارت جام کمال ، وفاقی وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیرمملکت بلال اظہر کیانی سمیت دیگربھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد صحیح معنوں میں چاروں صوبوں کے لوگوں کا مسکن ہے، بلوچستان سے آئے غیور محب وطن بیٹوں اور بیٹیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے،بلوچستان میں بسنے والے ہمارے بہادر بلوچ اور پشتون بہن بھائیوں نے تخلیق پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا،1947میں بلوچستان کی کئی ریاستوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی،1948میں دیگر ریاستوں کے بلوچ پشتون قبائلی رہنماﺅں نے بھی آگے بڑھ کر قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت کو تسلیم کیا اور پاکستان کا حصہ بنے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان نے ملک کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کیا، بلوچستان کی قیادت نے ذاتی مفاد اور انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے کھلے دل سے وفاق کی حمایت کی ، بلوچستان آبادی کے لحاظ سے اگرچہ ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے لیکن جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، دوسرے صوبوں اور خاص طور پر گنجان علاقوں میں جو وسائل تعلیم ، صحت اور خوشحالی کےلئے استعمال کرکے زیادہ آبادی کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے، بلوچستان کی صورتحال ا س حوالے سے مختلف ہے ، فاصلے شہروں ،دیہات اور قصبوں کے درمیان بہت زیادہ ہیں ، دور دراز علاقوں کی ترقی کےلئے طویل فاصلوں کے باعث وسائل نسبتاً زیادہ چاہئیں ،2010میں این ایف سی ایوارڈ میں اس معاملے کو تسلیم کیا گیا اور باقی تین صوبوں بالخصوص پنجاب نے ملکر رضا کارانہ طور پر بلوچستان کا مالی حق 100فیصد بڑھانے کے مطالبے کو پورا کیا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا، پنجاب نے 11ارب روپے سالانہ دیئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوئی احسان نہیں تھا بلکہ بھائی چارے کی ایک عظیم مثال تھی ، پنجاب 2010سے اب تک 150ارب روپے اس سلسلے میں فراہم کرچکا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے انہوں نے کہا کہ کراچی سے چمن تک این25جسے خونی سڑک کہا جاتا تھا اور روزانہ حادثات ہوتے ہیں ، اس دیرینہ مطالبے کو پوراکرنے کےلئے گزشتہ برس تیل کی قیمت میں کمی کی مد میں جمع ہونے والی رقم سے کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک بنانے کا فیصلہ کیا، 300ارب روپے کا یہ منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہوگاتو اس خونی سڑک کو امن کی سڑک قرار دیا جائےگا۔وزیراعظم نے کہا کہ تمام صوبے مساوی ترقی کریں گے تو ملک ترقی کرےگااگر ایک صوبہ زیادہ ترقی کرتا ہے اور باقی صوبے پیچھے رہ جاتے ہیں تو یہ ملکی ترقی نہیں ہوتی ، ترقی کی دوڑ میں چاروں صوبوں کی یکساں کاوشوں کی ضرورت ہے، وفاقی حکومت اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔وزیراعظم نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کی شہادت کواندوہنا ک سانحہ قرار دیتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور اہلخانہ کےلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی حفاظت کےلئے عوام کے ساتھ افواج پاکستان اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر اور جوان قربانیاں دے رہے ہیں ، اب تک دہشتگردی کے خاتمے کی جنگ میں 90ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں۔ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والی طالبہ خالدہ یوسف کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آپ کا تعلق بھی چاغی سے ہے ،ہمیں آپ پر بہت فخر ہے۔ماضی میں میں نے پنجاب کے وزیراعلی ٰ کی حیثیت سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ دیئے ، ان کے ہاتھوں میں کلاشنکوف نہیں دی۔لیپ ٹاپ اور وظائف کے حوالے سے بلوچستان کا کوٹہ باقی صوبوں سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں 9دانش سکولز بنائے جارہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں