سونمیانی وندر(نمائندہ گوادر بزنس)ضلع لسبیلہ میں خضدار کی دو تحصیلوں شاہ نورانی اور کلغلو کو شامل کرنا کسی صورت قبول نہیں فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی ، چیف سیکرٹری بلوچستان ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان عالیانی نوٹس لیں۔ اس فیصلے سے مقامیوں کی حق تلفی ہوگی چراگاہوں پہاڑوں کے حوالے سے قبائلی تصادم کی وجہ بن سکتا ہے علاقائی لوگوں کی بڑی بیٹھک حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تحصیل شاہ نورانی اور تحصیل کلغلو کو دوبارہ سابقہ حیثیت میں بحال کیا جائے۔ قبائلی جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ دو تحصیلوں شاہ نورانی اور کلغلو کو لسبیلہ میں شامل کرنا قابل قبول نہیں حد بندیوں پہاڑوں اور چراگاہوں کے معاملے پر قبائلی تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے یہاں قبائلی جھگڑے ہونگے ان علاقوں کے لوگ ایک دوسرے کا گریبان پکڑیں گے بلکہ ہزاروں لوگوں کو یہاں شامل کرنے سے یہاں کے مقامی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حق تلفیاں ہونگی اور لوکل ڈومیسائل کے تنازعے کھڑے ہو جائیں گے فیصلہ کسی صورت علاقائی مفاد میں نہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر نواب جام کمال خان عالیانی جاری نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کریں شاہ نورانی اور کلغلو تحصیل کو لسبیلہ سے الگ کیا جائے۔ کنراج میں آباد تمام قبائلی عمائدین کا چیئرمین کنراج الہی بخش جاموٹ کی سربراہی میں منعقدہ جرگہ میں قبائلی شخصیات وڈیرہ کریم جاموٹ ، محمد خان جاموٹ ، وائس چیئرمین عبدالواحد گورگیج ، کونسلران خدابخش ، مولوی عبداللہ ، علی اکبر میراجی ، ولی محمد جاموٹ ، وڈیرہ رحیم بخش جاموٹ ، وڈیرہ انور جاموٹ ، وڈیرہ محمد حسین جاموٹ ، وڈیرہ اللہ ڈنہ جاموٹ ، ساجد جاموٹ ، آصف جاموٹ ، وڈیرہ مصطفیٰ جاموٹ ، وڈیرہ سرور سیاں ، وڈیرہ محمد ہاشم جاموٹ ، وڈیرہ غفور جاموٹ ، وڈیرہ سیٹھ صدیق جاموٹ ، وڈیرہ محمد اسحاق جاموٹ و دیگر جرگے میں شریک تھے۔
تحصیل شاہ نورانی اور تحصیل کلغلو کو دوبارہ سابقہ حیثیت میں بحال کیا جائے،قبائلی عمائدین
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل