اسلام آباد……سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مولانا فضل الرحمن کے حالیہ بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج اور وطن عزیز کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداءکے بارے میں غیر محتاط اور حقائق سے ہٹ کر دیے جانے والے بیانات قومی وحدت، عوامی جذبات اور ریاستی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج وطن کی آزادی، خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کی مضبوط ترین ضمانت ہیں، جبکہ ہمارے شہداءوہ عظیم محسن ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر آنے والی نسلوں کو امن، تحفظ اور باوقار مستقبل عطا کیا۔ شہداءکی عظیم قربانیوں کو متنازع بنانا یا ان کی خدمات پر سوال اٹھانا کسی بھی محب وطن پاکستانی کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حسن ضرور ہے، مگر قومی سلامتی، مسلح افواج اور شہداءجیسے مقدس قومی معاملات کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنا دانشمندی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے حالیہ بیان میں زمینی حقائق سے ہٹ کر مو¿قف اختیار کیا جس سے غیر ضروری ابہام پیدا ہوا۔ ایسے معاملات میں ذمہ دارانہ طرزگفتگو ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ فوج ہے تو وطن محفوظ ہے اور وطن محفوظ ہے تو ہماری آزادی، عزت اور مستقبل محفوظ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے جوانوں اور افسران نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت آج پاکستان ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شہداءکا لہو قوم پر ایسا قرض ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے کہا کہ شہداءپوری قوم کا مشترکہ سرمایہ، قومی وقار اور ہمارا فخر ہیں۔ ان کے بارے میں ایسا کوئی بھی بیان جس سے ان کی قربانیوں کی عظمت متاثر ہو یا شہداءکے اہل خانہ کے دل آزردہ ہوں اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حالیہ بیان پر نظرثانی کریں اسے واپس لیں اور آئندہ قومی اداروں اور شہداءسے متعلق اظہارخیال میں انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو الزام تراشی نہیں بلکہ اتحاد، یکجہتی، قومی ہم آہنگی اور اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی و مذہبی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے اسے ایک پرچم تلے متحد کرنے، ریاستی اداروں کا احترام فروغ دینے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہداءکی قربانیاں پاکستان کی تاریخ کا روشن ترین باب ہیں۔ پوری قوم اپنے شہداءکو سلام پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطن عزیز کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے ہر قربانی دینے والے اپنے بہادر سپوتوں کے ساتھ ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔
اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حسن ضرور ہے،ثمینہ ممتاز زہری
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل