ملک بھر کی طرح نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کا یوم شہادت کوئٹہ میں نتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیا
کوئٹہ۔۔۔۔۔۔ملک بھر کی طرح نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓکا یوم شہادت کوئٹہ میں نتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا گیایوم عاشور کاشبیہ ذولجناح ، تعزیوں اور علموں کا مرکزی ماتمی جلوس اما بارگاہ نیچاری علمدار روڈ سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستوں علمدار رود، قائد آباد اسٹریٹ ، طوغی روڈ، مشن روڈ، باچا خان چوک ،لیاقت بازار ، پرنس روڈ،میکانگی روڈ، ابراہیم اسٹڑیٹ سے ہوتا ہوا واپس علمدار روڈ پہنچ کراختتام پذیر ہو ا کوئٹہ شہر میں یوم عاشورہ کے جلوس کے موقع پر 8ہزار پولیس ،ایف سی اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ جلوس کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے بھی نگرانی کی جاتی رہی۔ جبکہ کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس صبح چھ بجے سے رات تک معطل رہی جبکہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے 10 محرم الحرام کے موقع پر سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ڈیٹا کمانڈ اینڈ کمیونیکیشن سینٹر سے لائیو کیمروں کے ذریعے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یومِ عاشور کے جلوسوں، مجالس اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا باچا خان چوک پر جلوس کے شرکا نے نماز ظہرین ادا کی بعد ازاں بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر ناظم اعلیٰ عاشق حسین ہزارہ سمیت ذاکرین اور علماءنے عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امام حسن اورحسین کے حالات زندگی اور واقعہ کربلا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یوم عاشور کو منانے کا مقصد فلسفہ حسینی کو اجاگر کرنا ہے کربلا کا واقعہ تمام مسلمانوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے جو اس بات کا درس دیتا ہے کہ اسلام دشمن اور طاغوتی طاقتوں کے آگے کبھی سر تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔ مقررین نے کہاکہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات، انتہا و عسکریت پسندی سمیت دیگر چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے تمام اختلافات کو بھلا کر اپنی صفوں میں مکمل اتحاد پیدا کرنا ہو گا۔جلوس کے اختتام کے بعد امام بارگاہوں میںشام غریبا ں کی محافل منعقد ہوئیں۔جلوس کے موقع پرسیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے کوئٹہ شہر میں 8ہزار سے زائد پولیس ،ایف سی ،بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات کئے گئے تھے جبکہ جلوس کے راستوں کو خاردار تاریں لگاکر اور ٹرک کھڑے کرکے ہرقسم کی آمدورفت کیلئے بند کردیاگیا تھا اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جلوس کے راستے کے طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جلوس کے روٹس پر واقع دکانوں ، پلازوں کو پہلے ہی مکمل اسکریننگ کے بعد سیل کردیا گیا تھا