پیپلز پارٹی کبھی بھی صوبوں سے کوئی حق واپس لینے کی حمایت نہیں کرے گی،بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد۔۔۔۔۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، وزیرِ داخلہ آئیں اور اس ہاﺅس کو بریف کریں،اپوزیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کے پاس جو طاقت ہے آپ اسے استعمال کرنا شروع کریں،اپوزیشن کو فعال کردار کی ذمے داری اٹھانا پڑے گی، آپ نے فنانس کمیٹی میں نہیں بیٹھنا، اس سے پارلیمان کے کردار میں کمزوری ہوئی،پارلیمان طاقت ور ہے تو ہم سب طاقت ور ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کبھی بھی صوبوں سے کوئی حق واپس لینے کی حمایت نہیں کرے گی۔جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی حکومتی بنچوں پر بیٹھا ہو یا اپوزیشن بنچوں پر، پورے ایوان اور قوم کو سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی فوج، سیاستدانوں، سول سوسائٹی اور عوام نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کو شکست دی ہے اور وہ کارنامہ انجام دیا جو پوری دنیا، بشمول نیٹو فورسز، افغانستان میں نہ کر سکی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرخرو ہوگا۔چیئرمین بلاول نے کہا کہ ان کی اور پوری پیپلز پارٹی کی کوشش ہمیشہ قانون سازی کے عمل میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ 1973 کا آئین اور 18ویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئے تھے اور اسی جذبے کا اظہار 26ویں ترمیم کی منظوری کے دوران بھی کیا گیا، جو طویل اور انتھک کوششوں کے بعد ممکن ہوئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تھا، جنہوں نے آگے چل کر پی ٹی آئی اور ایس آئی سی کو اس عمل میں شامل کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی بھی آئینی مشاورت کے عمل کا حصہ تھی چاہے انہوں نے ووٹ نہ دیا ہو۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کی رضامندی سے 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 27ویں ترمیم دراصل چارٹر آف ڈیموکریسی میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی ایک کوشش ہے، جس میں ایک آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پر پاکستان کی تاریخی فتح کے بعد یہ ترمیم آرٹیکل 243 کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیتی ہے۔انہوںنے کہاکہ دفاعی اداروں سے متعلق آئین میں کچھ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں،کسی بھی قانون یا ترمیم کی اصل طاقت اس اکثریت میں نہیں ہوتی جو اسے منظور کرتی ہے بلکہ اس سیاسی اتفاقِ رائے میں ہوتی ہے جو اس کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ1973 کا آئین آج بھی پاکستان کا غیر متنازع اور متفقہ آئین ہے کیونکہ اسے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تمام سیاسی جماعتوں نے منظور کیا تھا،اس اتفاقِ رائے کو کوئی آمر یا جابر سیاست دان ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے ایک آمر کو شکست دے کر حکومت سنبھالی تو انہوں نے 18ویں ترمیم منظور کی،ایک ایسی تاریخی دستاویز جس نے بنیادی جمہوری اصلاحات متعارف کرائیں اور صوبائی خودمختاری کو یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ18ویں ترمیم کو ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی،اس پر صرف پیپلز پارٹی اور (ن )لیگ کے نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔ چیئرمین بلاول نے بتایا کہ حکومت نے ان سے مجوزہ ترمیم کے حوالے سے رابطہ کیا تھا،اگر یہ ترمیم دفاعی ڈھانچے سے متعلق ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے متعلقہ اداروں سے مشاورت کی ہے،اسی طرح اگر یہ عدالتی اصلاحات سے متعلق ہے تو حکومت نے ججوں اور وکلا سے مشاورت کی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ مجھ سے بطور چیئرمین پیپلز پارٹی رابطہ کیا گیا اور میں نے یہ معاملہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے رکھا، طویل غور و فکر کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے وژن کی تکمیل کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور پاکستان کی مسلح افواج کو دنیا بھر میں نریندر مودی کی حکومت کو تاریخی شکست دینے پر سراہا جا رہا ہے جب چھ بھارتی طیارے گرائے گئے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ بھارت نے دوسری سرحد پر افغانستان کے وزیرِ خارجہ کی میزبانی کی ہے،اس تناظر میں پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243 سے متعلق حکومتی سفارشات کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی بجائے اپنے قید رہنما کے لیے شور مچانے کو ترجیح دی۔انہوںنے کہاکہ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، لیکن کمیٹیوں میں شرکت اور اپنی تجاویز دینے کی ذمہ داری اپوزیشن پر بھی عائد ہوتی ہے، جو انہوں نے ادا نہیں کی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئینی عدالتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی حکومت پاکستان کی اس بات پر بھی تعریف کرتی ہے کہ اس نے تمام صوبوں کو نئی عدالتوں میں مساوی نمائندگی دینے کا مطالبہ قبول کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاق تبھی مضبوط ہوگا جب تمام صوبوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو سیاسی قوتیں 27ویں ترمیم کی مخالفت کر رہی ہیں، انہیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ایک تاریخی سنگِ میل ہے کیونکہ پہلی مرتبہ ہر صوبے کو آئینی عدالتوں میں برابر کی نمائندگی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کا نشانہ بنایا گیا تھا تو اس وقت کی عدالتی بینچ میں صوبوں کی مساوی نمائندگی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج بھی اس ناانصافی کے نتائج بھگت رہے ہیں، جو لوگ صوبائی مساوات کی بات کرتے ہیں، چاہے وہ اچکزئی صاحب ہوں یا کوئی اور، انہیں اس تاریخی پیش رفت کو سراہنا چاہیے جو تمام صوبوں کے درمیان حقیقی مساوات کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور کے بعد تمام سیاسی جماعتیں، بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن )از خود نوٹس کے بے جا استعمال سے متاثر ہوئیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے دیکھا کہ عدالتیں ٹماٹر اور آلو کی قیمتیں مقرر کر رہی تھیں، ڈیم بنا رہی تھیں اور وزرائے اعظم، وزیروں اور منتخب نمائندوں کی توہین کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد از خود نوٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور وہ تلوار جو عدالتوں نے وزرائے اعظم اور حکومتوں کے سروں پر لٹکائی ہوئی تھی، ہمیشہ کےلئے ہٹ جائے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے کئی نکات ایسے ہیں جن پر اب بھی عمل درآمد ہونا باقی ہے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں پر قابو پایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہمیںسچائی اور مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ ملک شہباز شریف، اچکزئی اور عمران خان کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی اور شہری کا۔انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی تقسیم ختم ہو اور باہمی برداشت کو فروغ دیا جائے،جب تک سیاست دان ایک دوسرے اور اس ایوان کا احترام نہیں کریں گے ملک کو وہ طرزِ حکمرانی نہیں مل سکے گی جس کا وہ مستحق ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ پارلیمنٹ سے منہ نہ موڑے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ جاری رکھے تاکہ موجودہ جمود کو جمہوری طریقے سے ختم کیا جا سکے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت نے اپنی ابتدائی مسودے میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومتوں کو دی گئی آئینی ضمانت ختم کرنے کی تجویز دی تھی جسے پیپلز پارٹی نے سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میں اس پارٹی کا سربراہ ہوں، میں کبھی بھی صوبوں کو دی گئی آئینی ضمانتیں واپس لینے کی حمایت نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ملک مالی بحران پر قابو پا لے، لیکن ایسی تجاویز دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہم صرف ایف بی آر کی اپنی اہداف پر ناکامی کی وجہ سے صوبائی حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں اور یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جن ٹیکسوں کو صوبوں کے حوالے کیا گیا، ان کی وصولی ہمیشہ وفاق کی نسبت بہتر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی بھی صوبوں سے کوئی حق واپس لینے کی حمایت نہیں کرے گی بلکہ وہ اس بات کے لیے آواز اٹھائے گی کہ وفاق ان صوبوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا کر سکتا ہے اور کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ایف بی آر یا دیگر وفاقی مالیاتی اداروں کی ناکامیوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے بلکہ تمام صوبوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان پر بہتر کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری عائد کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تعلیم اور آبادی کے محکمے دوبارہ وفاق کو منتقل کرنے کی تجویز دی ہے وہ اختیارات جو 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے اور جنہوں نے علیحدگی پسندی کی سیاست کو دفن کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کے خلاف سرحد پار سے سازشیں ہو رہی ہیں، حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو علیحدگی پسند عناصر کو دوبارہ ابھارنے یا دشمنوں کی مدد کا باعث بنیں۔چیئرمین بلاول نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اختیارات کی واپسی یا این ایف سی ایوارڈ کے تحت دی گئی آئینی ضمانتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے ججز کی تقرریوں و تبادلوں کےلئے ایک متوازن طریقہ کار تجویز کیا ہے جس کے تحت جوڈیشل کمیشن متعلقہ جج کی رائے بھی لے سکے گا، اور حکومت نے اس سفارش سے اتفاق کیا ہے۔انہوں نے حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے زبردستی ججز کو ریٹائر کرنے کے خیال کو واپس لے لیا ہے۔ چیئرمین بلاول نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے بنیادی فلسفے کا حصہ رہا ہے اور پارٹی اس حوالے سے مزید بات چیت کی متمنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کا کوئی بھی پینل اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سندھ میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات دیگر تمام صوبوں سے بہتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے حوالے سے موجودہ اتفاقِ رائے کو مزید آگے بڑھانے پر خوش ہوگی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ الیکشن کمیشن میں تعیناتیوں پر تعطل ختم کرنے کے لیے پارٹی ایک جمہوری حل تلاش کرے گی۔چیئرمین بلاول نے زور دیا کہ سیاسی جماعتیں ہی حکومت اور پارلیمنٹ کی اصل قوت ہیں، اس لیے کوئی بھی قانون سازی اچانک نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر مجوزہ قانون پر بات چیت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے تفصیلی غور ہونا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں