پاکستان امریکا کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے، اور نگزیب

بینکاک ۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان امداد پر انحصار سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک، امریکا، چین اور دیگر دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے، جاری مالی سال کے دوران ترسیلات زر کا حجم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر چینل نیوز ایشیا کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں اپنے شراکت داروں کی معاونت اور مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی پاکستان کی واضح سمت ہے، حکومت خلیجی ممالک سمیت تمام دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کو ترسیلات زر کی مد میں 41.6 ارب ڈالر موصول ہوئے جبکہ رواں مالی سال یہ رقم 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے،خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات تجارت اور ترسیلات زر، دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر دیکھنے کے بجائے دونوں کے ساتھ بیک وقت اقتصادی روابط آگے بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔ چین پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اہم حصہ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی گئی جبکہ دوسرے مرحلے میں موجودہ بنیادی ڈھانچے سے معاشی فوائد حاصل کرنے اور کاروباری مواقع بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں کاروباری اداروں کے درمیان تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے،چین کے ساتھ بعض مشترکہ منصوبوں میں برآمدات کے لیے مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں، جس سے پاکستان کی برآمدی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے، پاکستانی قیادت کے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جنہیں اقتصادی تعاون آگے بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث مختلف خطوں کے درمیان تعاون کی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے،پاکستان خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں اور آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے،ملائیشیا کے متعدد دوروں اور ملائیشیا و انڈونیشیا کی قیادت کے پاکستان کے دوروں سے علاقائی روابط اور تعاون کو فروغ ملا ہے۔ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران تھائی وزیر خزانہ سے ملاقات بھی علاقائی اقتصادی تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مشکلات کے ساتھ نئے تجارتی مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان مختلف ممالک اور خطوں کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ یورپی یونین دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان دیگر علاقائی تجارتی گروپس کے ساتھ روابط بڑھا کر دوطرفہ تجارت کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ علاقائی منڈیوں کے ساتھ تجارت بڑھانے اور شراکت داری کو متنوع بنانے سے عالمی تجارتی غیر یقینی صورت حال کے اثرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے،پاکستان کی کوشش ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں نئے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم اور وسیع بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں