عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھے خط لکھا، ان سے بات چیت ہونی چاہیے،مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد ۔۔۔۔۔جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے مجھ سے رابطہ کیا، انہوں نے اپنا آئندہ لائحہ عمل دینا تھا وہ نہیں دیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ خط موصول ہوا، حکومت کو وہ خط بھجوایا ہے، جس سے اب تک جواب نہیں ملا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ لوگ بڑی تعداد میں راولاکوٹ میں موجود ہیں، بات چیت ہونی چاہیے، چارٹر آف ڈیمانڈ کو دیکھنا چاہیے، مظاہرین کی تقریر کی بنیاد پر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفر آباد کی طرف کل کا مارچ موخر کیا ہے۔جے یو آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردِعمل بطور وزیرِ دفاع نہیں کرنی چاہیے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحق ڈار کے سپرد کر رکھی ہے، خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کو مجبور نہ کریں، ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا، حکومتی پارٹی ایسے جلسے کر کے دکھا دے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایوان میں بہت سی جذباتی باتیں ہوئی ہیں، یہ وقت تحمل و برداشت کا ہے، حکومت کا ردِعمل جذباتی ہوتا ہے تو یہ حکومت کا مقام نہیں ہوتا۔