حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا،بیرسٹرگوہر

سوات۔۔۔۔۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا، پانچ نکات پر بات ہوئی لیکن حکومت نے کسی ایک نکتے پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی، مذاکرات تو جنگوں میں بھی ہوتے ہیں، اگر حکومت واقعی مخلص ہے تو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ سوات کے دوران قمبر میں ڈاکٹر انور علی اور مینگورہ میں ایم پی اے فضل حکیم خان کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر نے لاپتہ ہونے والے ایم پی اے سلطانی روم اور کارکن خورشید دادا کی رہائش گاہوں پر جا کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور دونوں کی پراسرار گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایم پی اے فضل حکیم خان سے ان کے گلگت بلتستان سے لاپتہ ہونے والے بھتیجے عدنان خان کی گمشدگی پر بھی ہمدردی کا اظہار کیا اور اس طرح کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی گمشدگی کے معاملات کو قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف پرامن جماعت ہے اور پرامن احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے، ہمارے لوگ پرامن ہیں، ان پر گولی نہیں چلنی چاہیے، اگر گولی چلائی گئی تو اس کے ذمہ دار متعلقہ حکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا اسلام آباد لانگ مارچ رکا نہیں بلکہ جاری ہے اور حکومت جو روٹ دے گی ہم اسی راستے سے آگے بڑھیں گے، حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ آگے بڑھے اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کرے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں پانچ نکات زیر بحث آئے، تاہم ڈرافٹ کے نکات پر حتمی اتفاق نہ ہوسکا اور حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا۔ انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف نے مذاکرات کے دوران وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کا مطالبہ بھی رکھا لیکن حکومت نے اس پر بھی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات میں دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا تو تحریک انصاف نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مل بیٹھ کر کام کرنے اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کے لیے تیار ہیں، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ اپنانا ہوگا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے ذریعے ممکن نہیں، عدالتوں کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ آج صوبے میں ہمارے وزرا اور ارکان اسمبلی بھی غائب ہیں، کوئی بتائے کہ وہ کہاں گئے۔؟ انہوں نے کہا کہ جب چیف سیکرٹری اور آئی جی کسی اور سے احکامات لیں گے تو صوبے میں امن کیسے قائم ہوگا، ہمارے ہی صوبے کے ڈپٹی کمشنرز کسی اور کے کہنے پر دفعہ 144 نافذ کر رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر خیبرپختونخوا کے معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے مداخلت کرکے صوبے میں ایک لولی لنگڑی حکومت قائم کر دی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے پنجاب میں تحریک انصاف کے مینڈیٹ سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو پنجاب میں دو کروڑ ووٹ ملے لیکن ان کے بقول مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 76 ایم این ایز، 25 سینیٹرز اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے 197 ایم پی ایز بائیکاٹ کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور تحریک انصاف نے تمام معاملات کو سیاسی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی، تاہم حکومت کی جانب سے کسی ایک بنیادی مطالبے پر بھی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف نے مخلصانہ کوششیں کیں لیکن حکومت نے مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، حکومت نے ایک طرف مذاکرات کی بات کی اور دوسری طرف ایسے اقدامات کیے جن سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر غیر آئینی اقدامات کیے گئے تو تحریک انصاف پارلیمنٹ، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے مکمل بائیکاٹ کرے گی۔ بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ ملک میں غیر آئینی اقدامات کیے گئے تو پاکستان کو مزید مشکلات اور سیاسی بحران کی طرف دھکیلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بغیر ہی گورنر راج جیسی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے، تاہم تحریک انصاف نہ حکومت چھوڑے گی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی تحلیل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر تحریک انصاف کی پالیسی واضح ہے اور اس کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر متفقہ حکمت عملی بنانی چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے معاملات میں مداخلت بند کرے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل کا حل نکالا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں