لاہور۔۔۔۔۔۔وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا ہے کہ 4اکتوبر کے احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماﺅں کے درمیان آف دی ریکارڈمذاکرات جاری ہیں تاہم ناکامی کی صورت میں خیبرپختونخوا ہ میں گورنر راج کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت کے ساتھ در پردہ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے مجوزہ احتجاج کی کال واپس نہ لی، تو لانگ مارچ کے شرکا ءکو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے تمام تر حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔کسی بھی صوبائی حکومت کی سرپرستی میں وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کرنا سراسر آئینی اور قانونی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں بتایا کہ آئین پاکستان میں گورنر راج کے نفاذ کا ایک واضح طریقہ کار موجود ہے اور وفاقی حکومت خیبرپختونخوا ہ میں اس سنگین آپشن کو استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ مکمل آئینی عمل اور پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں سے متعلق فیصلے کرنے کا حتمی اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے اور جب یہ حساس معاملہ ایوان میں آئے گا تو وزیراعظم شہباز شریف خود حکومتی موقف پوری صراحت کے ساتھ پیش کریں گے۔پی ٹی آئی کی موجودہ فیصلہ سازی پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے دعوی کیا کہ اس وقت تحریک انصاف کے معاملات کو سیاسی قیادت کے بجائے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز چلانے والے افراد ڈکٹیٹ کر رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کو آج بھی نواز شریف کی مکمل رہنمائی حاصل ہے۔حکومت اور پارٹی کے تمام اہم اور بڑے فیصلوں پر ان کی منظوری لی جاتی ہے اور جب موجودہ بحران مناسب فورم پر جائے گا تو نواز شریف بھی اپنا دو ٹوک موقف دیں گے۔
صوبوں سے متعلق فیصلے کرنے کا حتمی اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے‘رانا ثنا اللہ
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل