وزیراعظم کے پابند نہیں، لیوی ختم نہ ہوئی تو زیادہ قوت سے مارچ کریں گے‘حافظ نعیم الرحمن

لاہور۔۔۔۔۔امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم جماعت اسلامی سے بات چیت کریں نہ کریں اس سے غرض نہیں، اپنے وعدے کے مطابق عوام کو ریلیف دیں، فی لیٹر پٹرول پر ایک سو پنتیس روپے کی لیوی اور دیگر ٹیکسز ختم کیے جائیں،شہباز شریف کے پابند نہیں، مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو پہلے سے زیادہ قوت سے لانگ مارچ کا آغاز ہوجائے گا۔منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خیبر پختونخواہ میں گورنر راج، ایمرجنسی لگانے کی گردش کرتی اطلاعات کی پرزور مذمت کی۔ انہوں نے صومالیہ میں بحری قذاقوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تین پاکستانیوں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ حکومت کی نااہلی سے یہ افسوسناک سانحہ رونما ہوا۔ نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور ڈپٹی سیکرٹری رسل خان بابر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لیوی کے خلاف تحریک جاری ہے، وزیراعظم فوری طور پر لیوی کے خاتمہ کا اعلان کریں، ایسا نہ ہوا تو ملتان سے ہی زیادہ پُرزور لانگ مارچ شروع ہوجائے گا جس میں سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب کے قافلے شریک ہونگے، جو لاہور سے ایک بڑے کارواں کی شکل اختیار کریگا، خیبرپختونخوا سے بھی قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔ مختلف شہروں میں جلسے ہورہے ہیں، دستخطی مہم بھی جاری ہے، لیوی کے خلاف دوکروڑ سے زائد دستخط لیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف وطن پہنچ گئے ہیں، دیکھتے ہیں وہ کیا ریلیف دیتے ہیں، ٹال مٹول قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ لیوی ختم نہ کی جائے، حکومت ایف بی آر کی نااہلی کی سزا عام آدمی کو دے رہی ہے، آمدن کے اہداف پورے کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو یقین دہانیاں کرائی جارہی ہیں، عالمی ادارہ کی جانب سے سود کم نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حکمران غلاموں کی طرح اسے سود کم کرنے کی یقین دہانیاں کرارہے ہیں، سود میں کمی کا مہنگائی سے کوئی تعلق نہ آئی ایم ایف کا مطالبہ، حکمران اپنی عیاشیاں کم کریں، عوام ان کی شاہ خرچیوں کا بوجھ برداشت نہیں کریں گے، کیا وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی ایم ایف کی اجازت سے گیارہ ارب کا جہاز خریدا؟ شنگھائی کانفرنس کے لیے چھ ارب کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جارہی ہیں، کانفرنس کے بعد یہ گاڑیاں کس کے استعمال میں ہوں گی؟ کیا ملک میں بلٹ پروف گاڑیوں کی کمی ہے کہ نئی منگوائی جارہی ہیں؟ ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں چالیس فیصد بجلی گیس اور تیل سے نہیں بنتی، ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت انچاس ہزار میگاواٹ ہے جب کہ طلب اٹھارہ ہزار میگاواٹ ہے۔ جب چالیس فیصد بجلی پانی، کوئلہ اور دیگر سستے ذرائع سے حاصل ہورہی ہے تو آئی پی پیز کو تیل و گیس کی سپلائی کیوں ہورہی ہے اور پھر عوام سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں لوٹ مار کی جاتی ہے، حکومت آئی پی پیز کو کیپیسٹی پے منٹ کی مد میں اربوں ادا کررہی ہے اور عوام کو امپورٹڈ آئل کے پیسے ڈال رہی ہے۔ ملک میں آئی پی پی مافیا، ریفائینری مافیا، گندم مافیا، آٹا مافیا، شوگر ملز مافیا کا راج ہے، یہ مافیاز ہر نام نہاد بڑی سیاسی پارٹی اور حکومت میں شامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں ان مافیاز کے خلاف بات نہیں کرتیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آئی ایم ایف نے حکومت کو ایک سو باون ارب روپے فیول کنزمشن کم کرنے اور سو ارب روپے پی ایس ڈی پی کو کم کرنے کا کہا ہے لیکن یہ حکمران ایسا نہیں کرتے، ہم نے انہیں تیرہ سو سی سی گاڑیوں کے استعمال اور ایم این ایز اور ایم پی ایز کو پی ایس ڈی پی کی مد میں کرپشن کا موقع نہ دینے کا مشورہ دیا ہے، انہیں عوام کے مطالبات کو ماننا پڑے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان، کے پی میں شدید بدامنی ہے، آزاد کشمیر سے اچھی خبریں نہیں آرہیں، ایسی صورت میں حکومت کا طاقت کے ذریعے کے پی میں کسی بھی قسم کا غیر آئینی اقدام عوام کو مزید بدظن کردے گا، پی ٹی آئی سے بات کی جائے، حکومت بند گلی میں ہے تو مذاکرات کا راستہ اپنائے، جماعت اسلامی بھی اس ضمن میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جماعت اسلامی پی ٹی آئی قیادت سے رابطے میں ہے، تحریک انصاف کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی، یہ امر انتہائی شرمناک اور افسوس ناک ہے کہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا گیا، صومالیہ کی سیکیورٹی فورسز کی کاروائی کے دوران قذاقوں نے تین پاکستانی شہید کردیے، شہادتوں کے بعد بھی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے بات تک نہیں کی گئی، یہ حکومت کی نااہلی ہے، اس کی مذمت کرتے ہیں، حکومت شہداءکی لاشیں واپس لانے کے اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں