لاہور۔۔۔۔۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،ہماری اسٹریٹ پاورسب نے دیکھ لی ہے، ہم کسی بھی صورت عوام کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، ہماری جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو جو ریلیف ملا ہے اسے ہم اس کا ناکافی سمجھتے ہیں، حکومت اس ماہانہ 25،30ارب روپے کے ریلیف کوبہت بڑا کارنامہ سمجھتی ہے، حکومت کو پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس ختم کرنا ہوگا، بلاول زرداری اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ کے انتخابی نظام کے خلاف ہیں تو کراچی میں جعلی می¿ر شپ اورقومی و صوبائی اسمبلی کی فارم 47کی بنیاد پر ملنے والی نشستوں سے دستبردار ہوجائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، نائب امراءسیف الدین ایڈوکیٹ،مسلم پرویز، راجہ عارف سلطان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فارو ق، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی بھی موجود تھے۔امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات افراتفری میں عوام کے اصل ایشوز نظرانداز ہورہے ہیں،ہم کسی بھی سیاسی جماعت کے آئین وقانون کے مطابق احتجاج کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت سنجیدگی سے مذاکرات کرے اور تحریک انصاف کے حوالے سے مسئلے کو حل کرے، ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی قیدیوں کو آزاد ہونا چاہیے، خاص طور پرحکومت کاپی ٹی آئی کی گرفتار خواتین کو فی الفور رہا کرے، ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز چوہدری،شاہ محمود قریشی، محمود رشید جیسے افراد کی صحت خراب ہے اور ان کو جیلوں میں رکھا ہوا ہے جو کسی طرح بھی درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف کمیٹی کا اعلان کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، حکومتی وزرا کی دھمکیاں اور لہجے درست نہیں ہیں، حکومت کا گورنر راج کا غیر آئینی اقدام اس کے گلے پڑجائے گا، ان کے مطالبات کے نکات واضح ہیں جن میں عمران خان تک رسائی ہونی چاہیے، ہسپتال کی سہولتوں ملنی چاہیں،ان کی ملاقاتیں ہونی چاہیں، قانون او ر اس کے ضابطوں کے مطابق ان میں سے کوئی مطالبہ بھی ناجائز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں لوگ روزانہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، منگھو پیر میں اٹھارہ دن بعد ایک خاندان نے اپنے بچے کی تدفین کی ہے، گزشتہ رات ایک اور نوجوان اسٹریٹ کرائم میں ماراگیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں عوام کو یہ شعور ملا کہ یہ پیٹرول لیوی ایک بھتہ اور غنڈہ ٹیکس ہے جس کا پیٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے، وزیر اعظم کی یقین دہانی پر ہم نے لانگ مارچ کو ایک وقفہ دیا ہے، احتجاج سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں،آج بھی پور ے ملک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، کچھ دن پہلے لاہورمیں جو جلسہ ہوا ہے جسے حکومت نے روکنے کی کوشش کی اور چاروں طرف سے جلسہ گاہ کوکنٹینروں سے گھیر لیاگیا لیکن اس کے باوجود ہم نے ایک تاریخی جلسہ کیا، اب پورے ملک میں باقاعدہ ایک دستخطی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے ، احتجاجی کیمپس قائم ہیں،ریلیاں ہورہی ہیں، ہم اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہیں، حکومت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے طرزعمل میں سامراجی ذہنیت شامل ہے،ایک رپورٹ کے مطابق اس کے ڈونرز اس کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، جن میں مختلف ممالک شامل ہیں اور سب سے بڑا شی¿ر ہولڈر امریکہ کا ہے، جس کا شی¿ر 165فیصد ہے، آئی ایم ایف کو بعض فیصلے 85فیصداکثریت سے کرنے ہوتے ہیں، اس لیے جب امریکہ سامنے آتا ہے تو یہ آئی ایم ایف پر بھی ویٹو کردیتا ہے، امریکہ کی دہشت گردی صرف یواین او میں ہی نہیں ہورہی ہے، بلکہ اس کی دہشت گردی پورے عالمی معاشی نظام پر ہورہی ہے جس آئی ایم ایف کا پہاڑا پڑھتے ہوئے ہمارے حکمران تھکتے نہیں ہیں،اس کے پروگرام میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ پاکستانی حکومت لیوی کو لازمی وصول کرے گی، حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اگراس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو مریم نواز نے گیارہ ارب روپے کاجہاز کیسے لیا؟ 66ارب روپے کی گاڑیوں کاآرڈر کیوں دیا گیا؟ ۔بیورو کریٹس،وزریروں،مشیروں کے پاس اربوں کھربوں کی گاڑیاں کیوں موجود ہیں؟یہ سب فری بجلی اور پیٹرول کیوں استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 13سو ارب روپے کی کرپشن ایف بی آر نے کی ہے،پاکستان کے بینکوں میں اس وقت موجود 38ہزار ارب روپے کے ڈپوزٹس میں سے 40فیصد کرنٹ اکاو¿نٹ ہیں،جس نے اپنے پیسے جمع کرائے وہ ایک فیصد بھی سود نہیں لے رہا، ہم نے پیسے دیے ہم سود نہیں لے رہے، یہ ہمارے پیسوں سے حکومت کو قرضہ دے رہے ہیں اور حکومت 11فیصد سود لگاکر پیسے واپس کررہی ہے، یہ گیارہ فیصد حکومت ملک میں موجود غریب طبقے سے لے رہی ہے، حکومت کا یہ کہنا کہ سود کی شرح کم کرنے سے سے مہنگائی بڑھ جائے گی،سراسر دھوکہ ہے، صرف 3فیصدشرح کم کرنے سے لیوی بالکل ختم ہوجائے گی، حکمران جماعتوں میں مافیاز کا راج ہے، جو ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، ہمارے ملک میں لوگوں کو مختلف ناموں،خاندانوں،شخصیات کے پیچھے لگاکر اصل ایشوز سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،عوام کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے‘حافظ نعیم الرحمن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل