حکومت مذاکرات کے بجائے مسئلہ حل کرے: حافظ نعیم الرحمن

سکھر۔۔۔۔۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 80 روپے فی لیٹر تک لیوی عائد کرکے عوام سے اضافی رقم وصول کی جارہی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام آدمی اور مڈل کلاس پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، اس لیے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا کارٹل موجود ہے جو مختلف شعبوں میں عوام کے مفادات کے بجائے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ شوگر، آٹا، گندم اور آئی پی پیز سمیت مختلف شعبوں میں مافیاز عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں، جبکہ حکومت کو چاہیے کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے مراعات یافتہ طبقے کے غیر ضروری اخراجات ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو صرف مطالبہ نہیں دیا بلکہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے متبادل مالی ذرائع بھی تجویز کیے ہیں۔ پالیسی ریٹ میں کمی سے حکومت کے قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بڑی بچت ہوسکتی ہے، لہٰذا حکومت کو بینکوں کے مفادات کے تحفظ کے بجائے عوام کو ریلیف دینے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مریم نواز کے 11 ارب روپے کے طیارے سمیت حکومتی اخراجات پر سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔ جن حالات میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جارہا ہے، ایسے میں وزرائے اعلیٰ اور گورنر ہاو¿سز کے بڑے بڑے بجٹ سمیت حکومتی اخراجات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حکمران طبقے کے غیر ضروری اخراجات ختم کرکے اس رقم سے عوام کو ریلیف دیا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے 26 ارب روپے ماہانہ کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے، لیکن عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں اس سے کہیں زیادہ رقم وصول کی جارہی ہے۔ حکومت کا ریلیف پیکیج ناکافی ہے اور اس میں عملی مشکلات بھی موجود ہیں۔ حکومت کو سیدھا سیدھا پیٹرولیم لیوی کم کرکے پیٹرول کی قیمت میں کمی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزراءعوام کو ڈرانے کے بجائے مسئلے کا حل پیش کریں۔ عالمی منڈی کا نام لے کر عوام کو خوفزدہ کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کے پاس عوام کو حقیقی ریلیف دینے کی کوئی ٹھوس تجویز ہے تو سامنے لائے، جماعت اسلامی بات کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات صرف احتجاج ختم کرنے، اسلام آباد مارچ منسوخ کرنے یا روڈ کارواں روکنے کے لیے نہیں ہونے چاہئیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، لیکن بے نتیجہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہماری جدوجہد کا کوئی ذاتی یا جماعتی مفاد نہیں بلکہ مقصد عوام کا مسئلہ حل کرانا ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ احتجاج ختم ہو تو جماعت اسلامی کو منانے کے بجائے عوام کا مسئلہ حل کرے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف 35 روزہ احتجاج کے دوران 42 شہروں میں دھرنے دیے گئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی شرکت میں اضافہ ہوا۔ کراچی سے سکھر تک ٹرین مارچ میں حیدرآباد، ٹنڈو آدم، نواب شاہ، محراب پور، بھریا روڈ اور سکھر سمیت مختلف اسٹیشنز پر عوام نے بھرپور استقبال کیا۔ خواتین سمیت بڑی تعداد میں شہری ٹرین مارچ کے استقبال کے لیے اسٹیشنز پر موجود تھے، جو عوامی دلچسپی کا اظہار ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہے، نہ توڑ پھوڑ ہمارا ایجنڈا ہے اور نہ جلاو¿ گھیراو¿۔ 35، 36 روز کے احتجاج اور 42 شہروں میں دھرنوں کے باوجود کسی ایک شیشے کے ٹوٹنے کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت اسلامی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج جاری رکھے گی اور جب تک پیٹرولیم لیوی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا احتجاج سے دستبردار نہیں ہوگی۔ ضرورت پڑی تو اسلام آباد کی طرف بھی پرامن مارچ کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم یا کم کرکے عوام کو حقیقی ریلیف دے۔ آئی پی پیز کو بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے کی ادائیگی عوام پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ حکومت کو ایسے نظام کی طرف جانا ہوگا جس میں عام آدمی کی زندگی آسان ہو اور مراعات یافتہ طبقے کے غیر ضروری اخراجات ختم کیے جائیں۔سندھ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبے میں بدامنی اور قبائلی جھگڑے تشویشناک صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔ قبائلی تنازعات میں عام لوگوں کا خون بہہ رہا ہے اور حکومت اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتی۔ حکومت کا کام امن و امان قائم کرنا اور ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائلی سردار اسمبلیوں میں ایک ساتھ بیٹھتے ہیں لیکن اپنے علاقوں میں قبائلی بنیادوں پر ہونے والی لڑائیاں ختم نہیں کراتے۔ قبائلی سردار اپنی قوم کے حال پر رحم کریں اور تنازعات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ جماعت اسلامی قبائلی تنازعات کے خاتمے کے لیے جرگے اور مصالحتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے معیار اور ٹھیکوں میں کرپشن کا جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت انتہائی توجہ طلب ہے۔ صرف چند نمائشی اسکول اور منصوبے بنانے سے سندھ کا تعلیمی نظام بہتر نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے بنیادی ادارے درست طریقے سے کام کریں تو عوام کو علاج اور تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے ریاست کو بہتر روزگار اور تربیت کی پالیسی بنانا ہوگی۔ پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار کے نظام کو درست کرنا ناگزیر ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خاندانوں اور روایتی نعروں کی سیاست بہت ہوچکی، اب سیاست کا مرکز عوام اور نوجوانوں کے مسائل ہونے چاہئیں۔ جماعت اسلامی مافیاز اور عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے والے نظام کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ عوام کے مسائل حل کرنا ہی ہماری تحریک کا بنیادی مقصد ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں