عالمی تنازعات کا حل جنگ نہیں، مذاکرات اور سفارت کاری ہے، بلاول بھٹو

کراچی ۔۔۔۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی یوم امن کے موقع پر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پرامن دنیا کی بنیاد مکالمے، سفارت کاری، انصاف اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام پر رکھی جائے۔میڈیا سیل بلاول ہاو¿س سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں جاری تنازعات سے ثابت ہوا ہے کہ عسکری محاذ آرائی سیاسی تنازعات کا پائیدار حل نہیں۔ عالمی برادری کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کیلئے سفارتی ذرائع مضبوط کرنا ہوں گے۔انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ تنازع کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور انہیں مذاکراتی تصفیے کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت نے یہ ثابت کیا کہ جنگ کے مقابلے میں مکالمہ اور تنازع کے مقابلے میں سفارت کاری زیادہ مو¿ثر راستہ ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان خود جنگ، دہشتگردی اور خطے میں عدم استحکام کے باعث بھاری نقصانات اٹھا چکا ہے اور تنازعات کی انسانی و معاشی قیمت سے بخوبی آگاہ ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر، پانی سے متعلق تنازعات اور دہشتگردی سمیت تصفیہ طلب معاملات کو فوجی محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور سفارت کاری سے حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مشرق وسطیٰ میں شہری آبادی کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کیلئے عالمی کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اصولوں کا یکساں اطلاق ضروری ہے، جبکہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسانی حقوق اور حق خودارادیت کا عالمی سطح پر احترام یقینی بنایا جائے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مکالمے، مساوات اور انسانی وقار کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے وڑن کے مطابق جمہوری اقدار، پرامن بقائے باہمی اور بین الاقوامی تنازعات کے سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں