مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بیرونی قرضوں میں 200 فیصد اضافہ

کراچی۔۔۔۔۔۔۔موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران وفاقی حکومت کے بیرونی قرضوں میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق جولائی سے ستمبر تک پاکستان نے 5 ارب 44 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کیے، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم ایک ارب 81 کروڑ ڈالر تھی۔دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں 3 ارب 63 کروڑ ڈالر زیادہ بیرونی قرض حاصل کیا گیا۔ اس دوران عالمی بانڈز کے ذریعے 2 ارب 94 کروڑ ڈالر، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت 94 کروڑ 27 لاکھ ڈالر اور بیرونی تجارتی بینکوں سے 30 کروڑ ڈالر قرض لیا گیا۔اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق زیرِ جائزہ مدت میں عالمی مالیاتی اداروں سے 89 کروڑ 41 لاکھ ڈالر، جبکہ مختلف ممالک سے 5 کروڑ 81 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔ عالمی بینک نے 35 کروڑ 90 لاکھ ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے 15 کروڑ 35 لاکھ ڈالر قرض فراہم کیا۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال کے پہلے تین ماہ میں حاصل کیے گئے بیرونی قرضوں کی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً ایک ہزار 515 ارب روپے بنتی ہے، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق مجموعی بیرونی قرضوں میں ایک ہزار 260 ارب روپے سے زائد کے غیر منصوبہ جاتی قرضے شامل ہیں، جبکہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 254 ارب 80 کروڑ روپے کے مساوی قرض حاصل کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں