ریاض /واشنگٹن/لندن۔۔۔۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یمنی حوثیوں کے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 300سے زائد زخمی ہوگئے ، جن میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے ،11اکتوبر 2026شاہ خالد ایئر پورٹ پر حملہ، متعدد ایئر لائنز نے ریاض کےلئے اپنی پروازیں منسوخ کر دیں جبکہ سعودی عرب نے حملہ کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یمنی حوثیوں کے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 300سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کےلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جن میں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے ۔ غیر ملکی میڈیا نے ریاض کے ایک ہسپتال ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویش ناک ہے اور انھیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں سے اکثریت سعودی شہریوں کی ہے جبکہ بعض زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے طبی مراکز منتقل کیا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں چار سعودی، بنگلہ دیش کے دو شہری، اور امریکہ، اردن، فلسطین، شام، سوڈان اور مصر کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حملے سے ہونے والے نقصان کا جائزہ مکمل ہونے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے تنصیبات کی حفاظت کی تصدیق ہونے تک ایئرپورٹ کی آپریشنل سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملے کا جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا اور اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔دریں اثناءسعودی عرب میں موجود غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کا رخ کرنے سے گریز کریں۔ایوی ایشن ٹریکرفلائٹ ریڈار کے مطابق، ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے یا انھیں منسوخ کر دیا گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے بعد متعدد ایئر لائنز نے ریاض کےلئے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔کویت ایئرویز نے اعلان کیا کہ اس نے ریاض آنے اور جانے والی اپنی دو پروازیں ایئرپورٹ کی بندش اور سکیورٹی صورتحال کے باعث منسوخ کر دی ہیں۔اتحاد ایئرویز نے بھی ابو ظہبی اور ریاض کے درمیان اپنی متعدد پروازیں 12 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں جس کی وجہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش بتائی گئی ہے۔ایئر انڈیا نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی میں 15 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے،اسی طرح فلائی دبئی، ترکش ایئرلائنز، لفتھانزا اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے بھی آئندہ چند روز کے لیے ریاض جانے والی اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں ادھر یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے سعودی فضائی حدود سے متعلق اپنی ہدایات میں توسیع کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ حوثیوں کی سعودی عرب کے اندر مزید اندر تک اہداف کو نشانہ بنانے اور ملک کے ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت ہے۔جرمنی، کینیڈا اور سپین نے اپنے شہریوں کو ریاض، خصوصا شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کا سفر کرنے سے خبردار کیا ہے۔امریکا نے اپنے شہریوں کو ہدایت دی کہ وہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے سے گریز کریں۔ برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے برطانوی شہریوں کو ہدایت دی کہ جب تک ہوائی اڈہ محفوظ قرار نہیں دیا جاتا اس علاقے سے گریز کریں۔ دریں اثناءامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔صحافیوں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا انھوں نے سعودی عرب کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایسا ممکن ہے،ہم اس کا جائزہ لیں گے،ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں معلوم ہوا ہے،ہم فیصلہ کریں گے،ہم بہت تیزی سے فیصلے کرتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ وہ اس صورتحال پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کریں گے۔ دریں اثناءامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی کہ ان حملوں میں ایک امریکی شہری ہلاک ہوا ہے۔
ریاض ایئر پورٹ پر حملے میں 12 افراد جاں بحق، 300سے زائد زخمی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل